• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۹, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
ایمن الظواہری کی ہلاکت اور امریکی ڈرون حملے نے خطے میں ایک نئے کھیل کو جنم دیا ہے

ایمن الظواہری کی ہلاکت اور امریکی ڈرون حملے نے خطے میں ایک نئے کھیل کو جنم دیا ہے

آصف شاہد

by امت ڈیسک
04/08/2022
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری افغان دارالحکومت کابل میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔ ان کا محل نما مکان جس علاقے میں واقع تھا وہ کابل میں اشرافیہ کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ ڈرون حملے کے بعد فطری طور پر یہ سوال ابھرتا ہے کہ ایمن الظواہری کی ہلاکت سے القاعدہ کو کتنا نقصان ہوا اور اس سے یہ گروپ کس قدر کمزور ہوگا؟ لیکن افغانستان اور پاکستان میں اس معاملے پر کچھ اور سوالات زیادہ اہمیت کے حامل نظر آئے۔

پاکستان میں یہ سوالات اٹھے کہ ڈرون کہاں سے اڑا؟ پاکستان کا کس قدر کردار ہے؟ اور کیا ہم معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے دوبارہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شامل ہوگئے ہیں؟

افغانستان کے لیے بڑا سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ دوحہ معاہدے میں افغان طالبان نے لکھ کر دیا تھا کہ غیر ملکی دہشتگرد گروپوں کو پناہ نہیں دی جائے گی لیکن کابل میں ایمن الظواہری جس گھر میں مارے گئے وہ سراج الدین حقانی کے قریبی ساتھی کا گھر تھا۔ تو کیا دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی؟ افغانستان میں کوئی امریکی انٹیلی جنس نیٹ ورک نہ ہونے کے باوجود اس قدر درست انٹیلی جنس کیسے اکٹھی کی گئی؟ ہم ان سوالات کے جواب کھوجنے کی کوشش کریں گے۔

ایمن الظواہری اتوار کی صبح سوا 6 بجے کابل میں ڈرون حملے میں مارے گئے اور پیر کی صبح امریکی صدر نے ویڈیو خطاب میں اس کا اعلان کیا۔ امریکی صدر نے یہ اعلان کرتے ہوئے کسی ملک کی مدد شامل ہونے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا لیکن انہوں نے اتحادیوں کا شکریہ ضرور ادا کیا۔

امریکی صدر کے مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان نے اے بی سی ٹی وی کے پروگرام گڈ مارننگ امریکا میں کہا کہ جب یہ حملہ کیا گیا تو افغانستان میں ہمارا کوئی فرد یونیفارم میں نہیں تھا۔ اس معاملے پر امریکا افغان طالبان کے ساتھ براہِ راست بات کر رہا ہے۔ میں سب کچھ نہیں بتاؤں گا، لیکن افغان طالبان اس بات کو بخوبی سمجھ گئے ہیں کہ امریکا اپنے مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے۔

امریکی صدر اور ان کے مشیر قومی سلامتی کے بیان کے بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ کا بیان زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس میں الظواہری کا نام تک نہیں لیا گیا اور دہشتگردی کے خلاف ملک کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف ہر ایکشن کی حمایت ظاہر کی گئی۔

امریکی ڈرون حملے کا وقت بھی بہت اہم ہے۔ پاکستان پورے ایک سال سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کے لیے افغان طالبان کو کہتا رہا لیکن کوئی عمل نہ ہوا۔ پچھلے ماہ پاکستان نے بااثر علما کا ایک وفد کابل بھیجا جس نے ٹی ٹی پی کی قیادت سے مذاکرات کیے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا الٹا ٹی ٹی پی نے اپنے مطالبات کی فہرست تھمادی۔

کہا جاتا ہے کہ امریکا اپریل سے ہی الظواہری کے ٹھکانے سے آگاہ تھا اور کئی بار کی بریفنگز اور منصوبہ بندی کی منظوری کے بعد یہ حملہ کیا گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ الظواہری کو جب اس گھر میں خاندان سمیت منتقل کیا گیا تو سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا اور یہی دو رہنما الظواہری سے ملے تھے۔

اب افغان طالبان کے ذرائع سے یہ اطلاع بھی سامنے آرہی ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کی قیادت کے درمیان اس ڈرون حملے کے بعد اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور حقانی نیٹ ورک کا خیال ہے کہ الظواہری سے متعلق معلومات ملا یعقوب نے دورہ قطر کے دوران شیئر کیں۔ اس بات کو یہ خیال بھی تقویت دیتا ہے کہ امریکا نے الظواہری پر ڈھائی کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا اور الظواہری کی ہلاکت کے اگلے دن امریکا نے افغانستان کو 4 کروڑ ڈالر منتقل کیے۔

پاکستان پہلے ہی ایک سال سے ٹی ٹی پی کے حملوں کا شکار ہے اور افغان طالبان کے آنے سے حملوں کی شدت اور رفتار بڑھی ہے۔ اب یہ ڈرون حملہ نہ صرف افغانستان پر حکومت کرنے والے طالبان اور حقانی نیٹ ورک میں تلخیاں پیدا کرسکتا ہے بلکہ پاکستان کے موجودہ افغان قیادت سے تعلقات بھی خراب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کا محتاط ردِعمل کسی بدگمانی سے بچنے کے لیے ہے لیکن امریکی ڈرون کہاں سے اڑا اور کس کی فضائی حدود چیرتا ہوا کابل کے دل تک پہنچا؟ یہ سوال دونوں ملکوں کے درمیان تلخی ضرور پیدا کرے گا۔

امریکی ڈرون پاکستان کی سرزمین سے نہیں اڑا، یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کیونکہ افغانستان سے امریکی انخلا کے وقت یہ سوال اٹھا تھا کہ انسدادِ دہشتگردی کے لیے اڈے تلاش کیے جائیں لیکن پاکستان نے اڈے دینے سے انکار کردیا تھا اور یہی انکار پاکستان کی معاشی مشکلات کا سبب بنا۔

پاکستان کو تمام مطالبات پورے کرنے کے باوجود ایف اے ٹی ایف سے نہ نکالا گیا اور نہ ہی ہمیں آئی ایم ایف پروگرام کے لیے کوئی مدد ملی۔ الٹا رکاوٹیں ہی پیدا کی گئیں۔ سی پیک کے قرضوں کی واپسی کا بندوبست کیا ہے اور کیسے ہے؟ اس سوال کو بنیاد بناکر آئی ایم ایف پروگرام کو مؤخر کیا جاتا رہا۔ یہ وہی سوال ہے جو امریکی پالیسی ساز اٹھاتے رہے اور کہتے رہے کہ امریکی رقم سے چین کو ادائیگی نہیں کرنے دیں گے۔

اس ڈرون حملے کے بعد یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید اب پاکستان کو مالی مدد مل جائے لیکن یہ ڈرون حملہ مالی مدد کے لیے ہوگا یہ بہت چھوٹی بات معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان کی معاشی مشکلات اپنی جگہ لیکن افغانستان سے پاکستان کو جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں اس لیے پاکستان کو اپنی راہ بدلنی پڑی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ پاکستان نے اس حملے کے لیے فضائی حدود استعمال کرنے دی لیکن یہ تو 2003ء کا معاہدہ تھا کہ پاکستان افغانستان جانے اور وہاں سے واپسی کے لیے امریکا کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے گا، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوئی۔

اگر کہیں پالیسی میں تبدیلی آئی ہے تو وہ امریکا میں آئی ہے جو افغانستان سے انخلا کے بعد سے پاکستان کو اہمیت نہیں دے رہا تھا۔ مئی کے آغاز پر پاکستان کے ایک طاقتور انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ نے واشنگٹن کا دورہ کیا تھا اور اپنے ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے علاوہ امریکا کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان سے بھی ملے تھے۔ پالیسی میں یہ تبدیلی تب آئی تھی۔ پاکستان امریکی بے رخی کا شکار ضرور ہوا لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان امریکا کا اہم غیر نیٹو اتحادی ہے اور یہ حیثیت اب بھی برقرار ہے۔

ایمن الظواہری کی ہلاکت ایسی کامیابی ہے جس کا امریکی صدر جو بائیڈن کو عرصے سے انتظار تھا۔ پچھلے سال افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے موقع پر صدر بائیڈن نے ‘اوور دی ہورائزن’ حکمتِ عملی کا اعلان کیا تھا۔ الظواہری کی ہلاکت اس اسٹریٹیجی کی کامیابی دکھانے کے لیے بہت کافی ہے اسی لیے جیک سلیوان نے کہا کہ جب الظواہری کی ہلاکت کا کامیاب آپریشن کیا گیا تو کوئی بھی امریکی یونیفارم میں افغانستان میں موجود نہیں تھا۔ 20 سال امریکی افواج افغانستان میں موجود رہیں اور الظواہری کو ہلاک نہ کرسکیں اور انخلا کا ایک سال مکمل ہونے سے پہلے ہی الظواہری مارا گیا، یہ بائیڈن کے لیے بڑی کامیابی ہے۔

اس کامیابی کے باوجود امریکی حکام خطے میں اڈوں کے بغیر بائیڈن کی پالیسی کی مکمل کامیابی کا یقین نہیں رکھتے۔ امریکی فوجی اور انٹیلی جنس حکام اب بھی کہتے ہیں کہ افغانستان پر نظر رکھنے کے لیے انسانی انٹیلی جنس نیٹ ورک کے بغیر یہ پالیسی نہیں چل سکتی۔ خطے میں اڈوں کی ضرورت پر یقین رکھنے والے حکام کا کہنا ہے کہ الظواہری بہترین انٹیلی جنس اور خطے کے ممالک کی طرف سے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت کے نتیجے میں مارا گیا۔ اگر کل فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہ ملے یا انٹیلی جنس ناقص ہو تو نئی کارروائی کیسے ممکن ہوگی؟

الظواہری کی ہلاکت کے بعد دوحہ معاہدے اور اس پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی سوال اٹھے ہیں۔ دوحہ معاہدے میں لکھا گیا تھا کہ القاعدہ اور دیگر جنگی گروپ تب تک افغانستان میں رہ سکتے ہیں جب تک وہ افغان زمین کو تربیت، فنڈ جمع کرنے اور منصوبہ بندی کے لیے استعمال نہ کریں۔ اب نئی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کہتی ہے کہ داعش خراسان 6 ماہ کی تیاری کے ساتھ امریکا کے اندر حملے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے 500 جنگجو افغانستان میں موجود ہیں اور طالبان نے ان کے ساتھ تعلقات نہیں توڑے۔

ایمن الظواہری کی ہلاکت اور امریکی ڈرون حملے نے خطے میں ایک نئے کھیل کو جنم دیا ہے۔ طالبان اس حملے پر مکمل خاموش ہیں اور انہوں نے صرف یہ کہا ہے کہ یہ حملہ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر نے بھی افغان طالبان سے متعلق کچھ نہیں کہا۔ یہ خطرناک کھیل ہے اور ایک بات صاف ہے کہ آنے والے دنوں میں پاک-افغان تعلقات اچھے نہیں رہیں گے۔(ڈان)

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

امریکی ڈرون حملے میں ایمن الظواہری کی ہلاکت پر طالبان خاموش، ردعمل پر غور

Next Post

جموں وکشمیر میں بے پناہ وسائل موجود، نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی:منوج سنہا

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

جموں وکشمیر میں ایل جی سے 5 سال کے بعد محبوبہ مفتی نے کی ملاقات، کشمیری پنڈتوں کے لئے کیا یہ بڑا مطالبہ

’’تجربات کو جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدلتی…‘‘، اے آر رحمان تنازع پر محبوبہ مفتی کا بیان

18/01/2026
جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

جموں کی علیحدگی کا مطالبہ: جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڈ پر

16/01/2026
این ایم سی نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ کر دی، طلباء کو دوسرے اداروں میں شفٹ کیا جائے گا

شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل داخلہ معاملہ: "سانپ بھی مرا اور لاٹھی بھی ٹوٹی”

09/01/2026
گلفام بارجی!  اداکاری سے شاعری تک

گلفام بارجی! اداکاری سے شاعری تک

02/01/2026
قومی شاہراہ، جس نے میوہ صنعت کی کمر توڑ دی!

سال 2025: کشمیر کی میوہ صنعت کے لیے بدترین سال

02/01/2026
کتھ باتھ سے  گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

کتھ باتھ سے گل بات تک: کیا نوجوانوں کے مسائل کے زریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش؟؟

26/12/2025
Next Post
جموں وکشمیر میں بے پناہ وسائل موجود، نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی:منوج سنہا

جموں وکشمیر میں بے پناہ وسائل موجود، نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی:منوج سنہا

راجوری میں جاسوسی ریکیٹ کا پردہ فاش، دو گرفتار

ادھمپور:پولیس کےڈرامائی تعاقب کے دوران ایک شخص کی موت،ہیروئن،1۔91کروڑ نقدی سمیت ایک گرفتار

اگست 2019 کے بعد جموں وکشمیر میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوا: منوج سنہا

پانچ اگست 2019 کے بعد عسکریت پسندی کے واقعات میں کمی

محرم کے پیش نظر سرینگر میں ٹریفک ایڈوائزری جاری

گروبازار سے ڈلگیٹ تک محرم الحرام کا جلوس نکالنے کی اجازت ، عرضی عدالت میں دائر

پلوامہ میں گرینیڈ حملہ،غیر مقامی مزدور ہلاک، 2دیگر زخمی

پلوامہ میں گرینیڈ حملہ،غیر مقامی مزدور ہلاک، 2دیگر زخمی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »