سرینگر: میر واعظ محمد عمر فاروق کو حکام نے گزشتہ روز اپنے رہائش گاہ سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔ میر واعظ نے اگرچہ جمعہ کے روز اپنی رہائش واقع نگین سرینگر سے جامع مسجد جانے کی کوشش کی، تاہم انہیں مرکزی دروازے پر ہی پولیس نے روکا اور باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔ بتادیں کہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حال ہی میں بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق اگست 2019 سے نظر بند نہیں ہیں اور نہ تھے۔ انہیں خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔
میرواعظ معاملے میں ایل جی اور ڈی جی پی کے متضاد بیانوہیں کانگریس پارٹی کے سینیئر رہنما و سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نےمیر واعظ کی نظر بندی پر ٹویٹ کر کے کہا کہ جموں و کشمیر کے ایل جی نے کہا کہ میر واعظ عمر فاروق نہ تو گھر میں نظر بند تھے اور نہ ہی ہیں۔
انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ جب میر واعظ نے گذشتہ روز جمعہ کی نماز کے لیے گھر سے نکلنے کی کوشش کی تو جموں و کشمیر پولیس نے انہیں روک دیا۔ میرا خیال میں جموں و کشمیر میں دو یوٹیز ہیں۔ ایک کی سربراہی ایل جی اور دوسرے کی سربراہی جموں و کشمیر پولیس کے ڈی جی پی کر رہے ہیں۔
پی چدمبرم نے مزید ٹویٹ میں لکھا کہ ‘کوئی نہیں جانتا کہ کون سا جموں و کشمیر قانون کی حکمرانی کے تحت ہے اور کون قانون کی حکمرانی سے باہر ہے۔ آزاد مبصرین کا خیال ہے کہ جموں و کشمیر کے کسی بھی حصے پر قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔’واضح رہے کہ علیٰحدگی پسند رہنما میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کو اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی نیم خود مختاری کی دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمے سے قبل ہی انتظامیہ نے گھر میں نظر بند کر دیا تھا۔ میر واعظ کشمیر ڈاکٹر محمد عمر فاروق آج بھی گھر میں نظر بند ہیں۔










