امت نیوز ڈیسک //
دنیا بھر میں مقبول مشروب چائے کو زیادہ اہمیت دینے کے مقصد سے راجیہ سبھا میں آج اس گرم مشروب کو قومی مشروب قرار دینے
کا مطالبہ کیا گیا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے ایوان بالا میں آسام کی نمائندگی کرنے والے پاو بیتر امارگریٹا نے ایوان میں وقفہ صفر کے دوران کہا کہ ملک کا ہر فرد چائے سے دن کی شروعات کرتا ہے۔ چائے کو ملک کی ثقافت کا حصہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کنیا کماری سے سری نگر اور گجرات سے شمال مشرق تک ہر ماں کے باورچی خانے میں موجود ہے، اس لیے چائے کو قومی مشروب قرار دیا جانا چاہیے۔
مسٹر مارگریٹا نے کہا کہ ملک میں چائے کے سینکڑوں باغات ہیں اور ان میں 50لاکھ سے زیادہ لوگ کام کرتے ہیں۔ انگریزوں کے دور میں اور گزشتہ 70 برسوں میں چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کا استحصال ہو تا رہا ہے۔ اس لئے حکومت چائے کی صنعت کے 200 سال مکمل ہونے پر خصوصی اقتصادی پیکج کا اعلان بھی کرے۔ مسٹر مارگریٹا نے کہا کہ اگلے سال 2023 میں آسام کی مشہور چائے 200 سال مکمل کرنے جارہی ہے۔ آسام حکومت اور آسامی عوام اس موقع کو بڑے اہتمام سے منانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو بھی اس میں تعاون کرنا چاہئے۔








