• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
ہفتہ, فروری ۷, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
صدر جمہوریہ سرینگر وارد

صدر ہند شریمتی دروپدی مرمو کا جموں وکشمیر دورہ: کشمیر یونیورسٹی میں کنووکیشن سے خطاب

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
12/10/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ملک کو کشمیر کے ذمہ دار نوجوانوں پر فخر ہے؛ طلباء پر اپنی پڑھائی کے ساتھ سماجی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں؛ ایسا کر کے وہ سماجی تبدیلی لا سکتے ہیں اور ایک مثال قائم کر سکتے ہیں :صدر ہند

بھارت کی صدر محترمہ دروپدی مرمو، 11اکتوبر2023ء سے جموںو کشمیر کے دو روزہ دورے پر وارد ہوئی ہیں۔ صدر دروپدی مرمو جموں و کشمیر کے 2روزہ دورے پر سرینگر پہنچیں جہاں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سرینگر ہوائی اڈے پر ان کااستقبال کیا۔ اس موقع پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے یو ٹی کے پہلے دورے پر صدر جمہوریہ کو روایتی گارڈ آف آنر سے نوازا گیا۔وہ کشمیر یونیورسٹی کے 20ویں سالانہ کانووکیشن کی مہمان خصوصی تھیں۔عہدیدار کے مطابق صدر مملکت کو کشمیر پہنچتے ہی بادامی باغ چھاؤنی لے جایا گیا جہاں وہ 15کور ہیڈ کوارٹرز میں بادامی باغ کنٹونمنٹ ہیلی پیڈ پر اتریں۔بعدازاں صدر صاحبہ نے جنگی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ہندوستانی فوج کی سپریم کمانڈر ہونے کے ناطے، جموں و کشمیر انتظامیہ کے علاوہ اعلیٰ فوجی جرنیل بھی ان کے استقبال میں شامل تھے۔بی بی کنٹونمنٹ سے صدر صاحبہ سیدھے کشمیر یونیورسٹی حضرت بل کیمپس پہنچیں اور کشمیر یونیورسٹی کے20ویں سالانہ کانووکیشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔کانووکیشن ان طلباء کے تعلیمی سفر میں ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے جنہوں نے2021اور وسط 2023ءکے درمیان اپنے کورسز مکمل کیے ہیں۔ حکومتی عہدیدار کے مطابق کانووکیشن کے بعد بدھ کی شام ان کے اعزاز میں ڈل جھیل پر لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو کا منصوبہ رکھا گیا تھا۔ جس کے بعد میں، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نےسرینگر کے راج بھون میں صدر مرمو کی میزبانی کی۔

حکام کے مطابق صدر دروپدی مرمو کشمیر یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شرکت کے علاوہ بدھ سے شروع ہونے والے جموں و کشمیر کے اپنے دو روزہ دورے کے دوران ماتا ویشنو دیوی کے درشن بھی کیے۔راشٹرپتی بھون کے ایک ترجمان نے منگل کو بتایا تھاکہ مرمو اپنے دورہ کو ختم کرنے سے پہلے ریاسی ضلع میں تریکوٹہ پہاڑیوں کے اوپر قابل احترام مقام پر دوبارہ تعمیر شدہ پاروتی بھون اور اسکائی واک کا بھی افتتاح کریں گی۔انتہائی ضروری اسکائی واک پر کام، جو بھون کے علاقے کے قریب مقدس مقام پر آنے اور جانے والے زائرین کو الگ کرنے میں مدد کرے گا، پچھلے سال اگست میں شروع ہوا تھا۔۔شرائن بورڈ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ200میٹر کی لمبائی اور کئی میٹر چوڑائی والا اسکائی واک کروڑ وںروپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا۔اس سے قبل صدر ہندنے 11اکتوبر کواپنی آمد کے دن ہی راج بھون میں مقامی قبائلی گروپوں کے ارکان اور سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین سے بات چیت کرنے کے علاوہ وہاں ان کے اعزاز میں دیے جانے والے ایک شہری استقبالیہ میں بھی شرکت کی۔ قبل ازیںلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو سرینگر میں صدر مرمو کے دورے سے قبل انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔جموں و کشمیر کے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ کے علاوہ اعلیٰ سول و سیکورٹی عہدیداروں نے بھی صدر کے دورے کے لیے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اس اجلاس میں شرکت کی تھی۔

کشمیر میں صدر ہند کے دورے کی اہم بات ان کی کشمیر یونیورسٹی کنووکیشن میں شرکت کی۔ کامیاب طلباء و طالبات کے درمیان توصیفی اسناد بانٹنے کے علاوہ صدر محترمہ نے اس موقع پر ایک طویل و مؤثر خطاب بھی کیا۔ اپنے خطاب میں محترمہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہت سی یونیورسٹیوں کا دورہ اور مشاہدہ کیا ہے لیکن جو خوبصورتی کشمیر یونی ورسٹی کے کمپس میں ہے وہ کہیں اور نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ جامعہ ہمیشہ درگاہ حضرت بل کے نور کے سائے میں ترقی کی راہیں طے کرتی رہی ہے۔صدر مرمو نے اپنی تقریر کا آغاز ’’یہ چھہ موج کشمیر‘‘(یہ ماں کشمیر ہے ) سے کیا جس پر ہال میں موجود طلاب نے زبردست تالیاں بجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ میں یہاں آ کر خوش ہوں۔ میں مختلف کانووکیشنز اور ملک کے مختلف اداروں اور یونیورسٹیوں میں گیئی ہوں لیکن میں نوجوانوں کو بتانا چاہتی ہوں ہوں کہ یہ کیمپس دوسروں سے زیادہ خوبصورت ہے۔ کشمیر یونیورسٹی کو ماضی میں بھی حضرت بل کا فیض حاصل رہا ہے اور رہے گا ۔ صدر دروپدی مرمو نے کہا کہ ملک کو ذمہ دار کشمیری نوجوانوں پر فخر ہے۔اس ضمن میں جاری کئے گئےایک بیان میں ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی کے 20ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک کو کشمیر کے ذمہ دار نوجوانوں پر فخر ہے۔انہوں نے کشمیر یونیورسٹی کے طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنی پڑھائی کے ساتھ سماجی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔صدر مرمو نے کہا کہ ایسا کر کے وہ سماجی تبدیلی لا سکتے ہیں اور ایک مثال قائم کر سکتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ کشمیر یونیورسٹی کے سابق طلباء نے ملک کی خدمت کرکے یونیورسٹی کا نام روشن کیا ہے۔کشمیر یونیورسٹی کے نعرے’آئیے اندھیرے سے روشنی کی طرف بڑھیں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر مرمو نے کہا، ہمارے نوجوان جتنا زیادہ تعلیم کی روشنی اور امن کی روشنی کی طرف بڑھیں گے، ہمارا ملک اتنا ہی ترقی کرے گا۔ صدر صاحبہ نے کہا کہ قرآن اور اُپنیشد ہمیں ہوبہو یہی تعلیم دیتے ہیں جس کا مقصد اندھیرے سے روشنی ،جہالت سے علم کا سفر ہے۔انہوں نے کہا کہ جس معاشرے اور ملک کے نوجوان ترقی اور نظم و ضبط کی راہ پر چلتے ہیں وہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔462طالب علموں میں سے 21اعلیٰ اعزاز پانے والوں میں گولڈ میڈل تقسیم کرنے کے بعد، صدرنے کہا’مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ٹاپ کرنے والوں میں55فیصد لڑکیاں تھیں۔ ہماری لڑکیاں اور خواتین ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ آج کے ایوارڈ یافتہ ہمارے تصویر اور تقدیر ہیں۔ماحولیات کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے، کشمیر کو قدرتی تحفے سے نوازا گیا،14ویں اور15ویں صدی کے کشمیری بزرگ شیخ نورالدین نورانی رحمۃ اللہ علیہ کے مصرعے’ان پوشہ تیلء ییلہ ون پوشہ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر صاحبہ نے کہا کہ ’جب تک جنگل ہوں گے تب تک کھانا ملے گا‘ ہمیں بتاتا ہے کہ فطرت کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور یہیں پر نوجوانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کشمیر یونیورسٹی ہمالیائی گلیشیئرز کی حفاظت کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہے اور مجھے یہاں معلوم ہوا ہے کہ اس ضمن میں کئی محاذوں پر تحقیق کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اسباق کشمیری ورثے کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین پر اس جنت کی حفاظت ہم سب کا فریضہ ہے۔صدر نے کشمیر یونیورسٹی پر زور دیا کہ وہ ہمالیائی ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں چوکنا رہے۔انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ گلیشیالوجی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ہمالیائی آئس کور لیبارٹری سے متعلق کام مختلف مراحل میں ہے۔صدر مرمو نے یقین ظاہر کیا کہ یونیورسٹی ایسے تمام شعبوں میں تیز رفتاری سے کام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی میں ہندوستانی نالج سسٹمز پر زور دیا گیا ہے۔اگر ہمارے نوجوانوں کو ہندوستانی نالج سسٹمز کے بارے میں اچھی معلومات دی جائیں تو انہیں بہت سی متاثر کن مثالیں ملیں گی۔ سرینگر شہر کو جہلم کے سیلاب سے بچانے کے لیے تقریباً 1200سال قبل ایک ماہر سویا نے جو کام کیا تھا اسے ہائیڈرولک انجینئرنگ کہا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس علم و سائنس کے ہر شعبے میں انمول خزانے ہیں۔صدر مرمو نے کہا کہ ’یہ علمی دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ آج کے حالات میں ایسے باضابطہ طور پر پروان چڑھے علمی نظام کو دوبارہ استعمال کرنے کے طریقے تلاش کرے۔‘‘صدر نے جموں و کشمیر کو قومی تعلیمی پالیسی کو مکمل طور پر نافذ کرنے اور دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر سبقت حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے تمام ایوارڈ حاصل کرنے والوں کے بہتر مستقبل کی خواہش کی۔ اس موقع پر کشمیر یونیورسٹی کی وائس چانسلر (وی سی) پروفیسر نیلوفر خان نے یونیورسٹی کی رپورٹ پیش کی اور مختلف شعبوں میں یونیورسٹی کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس این کوٹیشور سنگھ؛ سری نگر میونسپل کارپوریشن کے میئر، جنید عظیم مٹو ، ضلع ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) سرینگر کے چیئرمین آفتاب ملک کے علاوہ پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بشمول ڈی جی پی دلباغ سنگھ، اے ڈی جی پی وجے کمار، اسپیشل ڈی جی (سی آئی ڈی) آر آر سوین، ایس ایس پی سری نگر راکیش بھلوال، ڈویژنل کمشنر کشمیر وجے کمار بھیدوری، ڈی سی سرینگر اعجاز اسد، وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی اور دیگرنےبھی کانووکیشن کی تقریب میں شرکت کی۔

درایں اثناء سرینگر میں اپنے قیام کے دوران جہاں صدر ہند نے کئی وفود سے ملاقاتیں کیں وہیں پر سیاسی جماعتوں نے بھی ان کے دورے پر مختلف قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔ جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے صدر ہند کے دورے پر اپنی مبینہ خانہ نظر بندی کا ذکر کیا۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سربراہ محبوبہ مفتی نے انتظامیہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ محبوبہ مفتی کا دعویٰ ہے کہ انہیں انتظامیہ نے خانہ نظر بند رکھا ہے اور انہیں پارٹی دفتر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔سماجی رابطہ گاہ ’ایکس‘ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا: ’’یہ جان کر صدمہ ہوا کہ میں گھر سے پارٹی دفتر (لال چوک) تک نہیں جا سکتی، وہ بھی محض اس وجہ سے کہ محترمہ صدر صاحبہ آج سرینگر کے دورے پر ہیں۔‘‘ محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ ’’یہاں (کشمیر میں) نقل و حرکت کا حق کسی بھی وقت چھین لیا جاتا ہے۔’’محبوبہ مفتی کی خانہ نظر بندی کوئی غیر معمولی عمل نہیں، انہیں کئی بار خانہ نظر رکھا گیا تاہم کئی بار انتظامیہ، پولیس نے اس کی تردید بھی کی جبکہ محبوبہ نے سماجی رابطہ گاہ پر ان کے رہائشی گھر کی تصاویر بھی شیئر کیں ہیں جس میں دروازہ مقفل اور پولیس پہرا بھی دکھایا گیا‘‘۔کشمیر کے ایک اور سیاسی رہنماء اور اپنی پارٹی کے صدر نشین الطاف بخاری نے صدر ہند کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ صدر ہند اس دورے کے ذریعے جموں وکشمیر کی فرسٹ ہینڈ انفارمیشن حاصل کریں گے اور کشمیریوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کریں گی۔ سکھوں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بھی صدر ہند کے ساتھ ملاقات کی۔آل پارٹیز سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی ایس سی سی) کے ایک وفد نے صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی اور جموں و کشمیر میں سکھ برادری کے ساتھ مساوی سلوک اور شکایات کا فوری ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا۔وفد کی قیادت ہرملن کور اور منمیت کر رہے تھے۔ انہوں نے صدر کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں سکھ اقلیت کے ساتھ مرکز اور جموں و کشمیر حکومت دونوں کی طرف سے امتیازی سلوک اور نظر اندازی کو اجاگر کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن اور ریاستی انتظامیہ نے کشمیری پنڈتوں کے لیے دو نشستیں ریزرو کرنے کی سفارش کی اور اس عمل میں دیگر اقلیتی سکھوں کو نظر انداز کیا۔

واضح رہے کہ صدر کے دورے کے پیش نظر سرینگر میں حفاظتی انتظامات کو نمایاں طور پر بڑھا دیا گیا تھا۔ سیکورٹی فورسز نے کشمیر یونیورسٹی کیمپس کی مکمل سینیٹائزیشن کی ، ڈرونز، جدید الیکٹرانک آلات اور سی سی ٹی وی کی وسیع نگرانی کی حفاظت کے لیے کام کیا گیا۔ سرینگر میں داخلے اور خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جاتی رہی، گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی رسائی کے سخت ضابطوں کے ساتھ جامہ تلاشیاں اور دیگر حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں خصوصی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں بھی جاری رہیں۔ایک سینئر سیکورٹی اہلکار نے اس بات پر زور دیا کہ سیکورٹی کے انتظامات کو 100فیصد فول پروف بنانے کے لیے سبھی اقدامات اٹھائے گئے جبکہ عام لوگوں کی کم سے کم تکلیف کو بھی یقینی بنایا گیا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ شریمتی دروپدی مرمو ہندوستان کی پہلی قبائلی خاتون ہیں جنہیں ہندوستان کے اعلیٰ آئینی عہدے کے لیے امیدوار کے طور پر چنا گیا ہے۔2015ء میں، جب وہ جھارکھنڈ کی گورنر مقرر ہوئیں، وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بن گئیں۔ ایسا کرتے ہوئے، وہ اپنی آبائی ریاست اوڈیشہ سے گورنر بننے والی پہلی قبائلی خاتون بھی بن گئیں تھیں۔ شریمتی مرمو سنتال نسلی گروہ سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار قبائلی رہنما ہیں۔ سنتال جھارکھنڈ میں سب سے بڑا قبیلہ ہے اور یہ آسام، تریپورہ، بہار، چھتیس گڑھ، اڈیشہ اور مغربی بنگال میں بھی موجود ہے۔20جون 1958ءکو میور بھنج ضلع کے بیداپوسی گاؤں میں پیدا ہوئے، مرمو نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1997ءمیں بطور کونسلر اور رائرنگ پور شہری ادارہ کے نائب صدر کے طور پر کیا۔ اسی سال، وہ اوڈیشہ بی جے پی کے ایس ٹی مورچہ کی نائب صدر مقرر ہوئیں۔2000ء میں، وہ رائرنگ پور کی ایم ایل اے بنیں جب بی جے پی اور بیجو جنتا دل نے مخلوط حکومت بنائی۔ وہ 2000سے2004ء تک اڈیشہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ اور کامرس کی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) تھیں، اور2002 سے 2004تک ریاست کے محکمہ مویشی پالن اور2002میں ماہی پروری کے محکمے کا چارج بھی سنبھالا۔ایک عاجزانہ پس منظر سے آتے ہوئے، مرمو نے ملک کے سب سے دور دراز اور پسماندہ اضلاع میں غربت اور ذاتی المیوں سے لڑتے ہوئے سیاسی بصیرت حاصل کی۔ان کی شاندار شراکت کے انعام کے طور پر، انہیں قانون ساز اسمبلی نے 2007ءمیں’نیل کنٹھ ایوارڈ ‘برائے بہترین ایم ایل اے سے بھی نوازا تھا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

کرگل کونسل چناؤ :کیاچناؤی نتائج سے اسمبلی انتخابات التوا میں پڑگئے؟

Next Post

کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس پار سے ملی ٹنسی کی حمایت اور اس کا فروغ دینے کیلئے منشیات آرہی ہیں:دلباغ سنگھ

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

پاکستان میں  مسجد پر خودکش حملہ، 31 افراد جاں بحق، 169 زخمی

پاکستان میں مسجد پر خودکش حملہ، 31 افراد جاں بحق، 169 زخمی

06/02/2026
میر واعظ نے نوہٹہ اور چھتہ بل میں آتشزدگی کے واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا

میر واعظ نے نوہٹہ اور چھتہ بل میں آتشزدگی کے واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا

06/02/2026
گزشتہ برس جنگی صورتحال اور خشک سالی سے جموں و کشمیر کی معیشت کو شدید دھچکا: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

گزشتہ برس جنگی صورتحال اور خشک سالی سے جموں و کشمیر کی معیشت کو شدید دھچکا: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

06/02/2026
سجاد لون کی میوہ صنعت کو نقصان پہنچنے پر حکومت کی تنقید

بیوروکریٹس کا تیار کردہ، سیاسی سمت سے محروم: سجاد لون کا جموں و کشمیر بجٹ پر شدید تنقید

06/02/2026
دہلی دھماکہ کیس: این آئی اے کا اننت ناگ میڈیکل کالج میں چھاپہ، دستاویز ضبط

دہلی دھماکہ کیس: این آئی اے کا اننت ناگ میڈیکل کالج میں چھاپہ، دستاویز ضبط

06/02/2026
اسمارٹ سٹی کیلئے نصف سری نگر کی کھدوائی عوام کیلئے تکلیف کا باعث: محبوبہ مفتی

محبوبہ مفتی کا چناب ویلی اور پیر پنجال خطوں کے لیے ریل رابطہ قائم کرنے کا مطالبہ

06/02/2026
Next Post
کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس پار سے ملی ٹنسی کی حمایت اور اس کا فروغ دینے کیلئے منشیات آرہی ہیں:دلباغ سنگھ

کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس پار سے ملی ٹنسی کی حمایت اور اس کا فروغ دینے کیلئے منشیات آرہی ہیں:دلباغ سنگھ

طالبان کا نماز جمعہ میں ایک ہی خطبہ دینے کا حکم

اسرائیل-حماس جنگ کے درمیان ہندوستان کی کئی ریاستوں میں الرٹ

ہندواڑہ میں آئی ای ڈی  کو ناکارہ بنا دیا گیا

ہندواڑہ میں آئی ای ڈی کو ناکارہ بنا دیا گیا

جموں کشمیر میں خواجہ سراؤں کےلیے بھرتی درخواستوں کےلیے الگ صنف

جموں کشمیر میں خواجہ سراؤں کےلیے بھرتی درخواستوں کےلیے الگ صنف

جامع مسجد سرینگر میں جمعہ نماز ادا نہیں ہوسکی

جامع مسجد سرینگر میں جمعہ نماز ادا نہیں ہوسکی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »