امت نیوز ڈیسک //
مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا جبکہ سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں لیفٹنٹ گورنر کے مشیرآر آر بھٹناگرنے مارچ پاسٹ پر سلامی لی اور ترنگا لہرایا۔
اسی دوران لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ملی ٹینسی اور اس کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کیلئے حکومت کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایک پڑوسی ملک کی طرف سے سپانسر کی گئی ناپاک پراکسی جنگ کو ختم کرنے کیلئے حتمی حملے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔
لیفٹنٹ گورنر منو ج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کا مورال بلند ہے اور امن کو غیر مستحکم کرنے کی تمام کوششوں کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔
اس موقعہ پر لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ملی ٹینسی اور اس کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کیلئے حکومت کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایک پڑوسی ملک کی طرف سے سپانسر کی گئی ناپاک پراکسی جنگ کو ختم کرنے کیلئے حتمی حملے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔
منوج سنہا نے کامیاب G20 اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اس نے انسانیت کے دشمنوں اور جموں و کشمیر میں ملی ٹنسی کے اسپانسروں کو دنیا کے سامنے خطے کی اقتصادی طاقت، کاروباری صلاحیت، ثقافتی دولت اور سیاحت کے مواقع کی نمائش کرکے مناسب جواب دیا ہے۔انہوں نے کہا ”دہشت گردی، اس کے ماحولیاتی نظام اور ایک پڑوسی ملک کی طرف سے سپانسر ہونے والی ناپاک پراکسی جنگ پر حتمی حملے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔
ہم نے ایک نیا جموں و کشمیر بنانے کی کوشش کی ہے جس میں طاقت، روحانیت کی طاقت، جدید اور سائنسی سہولیات اور ردعمل ہو۔ “ منوج سنہا نے پولیس، فوج اور نیم فوجی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے ملک کی سلامتی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔انہوں نے کہا ”ان کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے،ہم جموں و کشمیر کی سرزمین سے ملی ٹینسی اور اس کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
میں ان پولیس فورسز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے 113 بہادری کے تمغے جیتے ہیں جو کہ دیگر فورسز میں سب سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملی ٹینسی کے خلاف پولیس کی جنگ مثالی ہے“۔










