امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 22 اگست: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کے روز شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے دو سرکاری ملازمین کو ممنوعہ عسکری تنظیم لشکرِ طیبہ سے مبینہ روابط کے الزام میں برطرف کرنے کے احکامات صادر کئے۔
برطرف ملازمین کی شناخت خُورشید احمد راتھر، جو کرناہ میں بطور استاد تعینات تھے، اور سیاد احمد خان، جو محکمہ انیمل ہسبنڈری میں کیرن کے مقام پر بطور اسسٹنٹ اسٹاک مین خدمات انجام دے رہے تھے، کے طور پر ہوئی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے حاصل شدہ ’’مجرمانہ شواہد‘‘ کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی، جن میں ان کے لشکرِ طیبہ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ براہِ راست روابط ثابت ہوئے۔
ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے تصدیق کی کہ یہ برطرفیاں بھارت کے آئین کے آرٹیکل 311(2)(c) کے تحت کی گئیں، جو حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ریاست کی سلامتی کے مفاد میں بغیر کسی انکوائری کے ملازمین کو برطرف کرسکتی ہے۔
انتظامیہ نے گزشتہ برسوں میں اُن سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں جن پر عسکری تنظیموں کے ساتھ روابط کا شبہ ہے، اور 2021 سے اب تک درجنوں ملازمین کو انہی دفعات کے تحت برطرف کیا جاچکا ہے۔









