امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 19 نومبر : وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر نے گزشتہ 30 برسوں میں بہت زیادہ خونریزی دیکھی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ یہ سب رک جائے۔
نیوز ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکز کا دعویٰ تھا کہ 2019 کے بعد ایسی صورتحال ختم ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ "یہ کیوں نہیں ہوا، اس کا جواب سیکیورٹی کے ذمہ داروں کو دینا چاہیے، کیونکہ سیکیورٹی ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔”
عمر عبداللہ نے مزید کہا، "موجودہ صورتحال پر ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ اگر یہ دہلی میں نہیں پھٹا تو کشمیر میں پھٹا ہے۔ میں نے کل پانچ متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور آج دو مزید خاندانوں سے مل رہا ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ خونریزی کا یہ سلسلہ بند ہو۔ جموں و کشمیر، خاص طور پر وادیٔ کشمیر، نے گزشتہ تین دہائیوں میں بہت درد اور نقصان دیکھا ہے۔”
انہوں نے مشن یووا کے حوالے سے بتایا کہ 30 ہزار ڈی پی آر منظور ہو چکے ہیں، لیکن بینکوں نے ابھی تک صرف 9 ہزار کیسوں کو منظوری دی ہے۔
ان کا کہنا تھا، "ہم اس فرق کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مزید کیسوں کی منظوری ہو سکے۔”(کے این او)










