امت نیوز ڈیسک //
سرینگر پولیس نے کشمیر وادی میں سرگرم ایک بڑے دھوکہ دہی اور چوری شدہ سونے کے ریکیٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔
ایک ترجمان کے مطابق لال بازار پولیس اسٹیشن نے اسمات جان عرف تابو کو گرفتار کیا ہے، جو دھوکہ دہی اور فراڈ کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھی۔ اس کے خلاف لال بازار، صفا کدل، چاڈورہ، سوپور اور کھرو (اونتی پورہ) میں مقدمات درج تھے۔ ملزمہ طویل عرصے سے گرفتاری سے بچنے کے لیے مغربی بنگال، پنجاب، مہاراشٹر اور جموں میں جگہ بدل کر رہ رہی تھی۔
مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایس ڈی پی او اور زونل ایس پی کی نگرانی میں لال بازار پولیس کی پانچ خصوصی ٹیموں نے انتھک کوششوں کے بعد اسے ہوٹل وائٹ ہاؤس، جالندھر (پنجاب) سے گرفتار کر لیا۔
کشمیر ویلی گولڈ ایسوسی ایشن نے اس سے قبل اس خاتون کی جانب سے سونے کی دکانوں کو بار بار دھوکہ دینے پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اسی سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 42/2025 لال بازار پولیس اسٹیشن میں بی این ایس کی دفعات 303(2) اور 318(4) کے تحت درج ہے۔
مزید تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ایک سنار اور اس کا ساتھی چوری شدہ سونا خریدنے، چھپانے اور بیچنے میں جان بوجھ کر ملوث تھے۔ گرفتار معاونین کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. شمیم احمد شیخ ولد سونہ اللہ شیخ، ساکن اقبال کالونی، اندرا نگر — پیشہ ور سنار، جو بوہری کدل میں چوری شدہ سونا کم قیمت پر خرید کر اسے چھپانے اور فروخت میں معاونت کرتا تھا۔
2. بصیر احمد ڈار ولد عبدالعزیز ڈار، ساکن نوہ کدل — چوری شدہ سونا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور خفیہ طور پر بیچنے میں ملوث پایا گیا۔
تینوں ملزمان کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور توقع ہے کہ مزید گرفتاریاں اور برآمدگیاں سامنے آئیں گی۔









