امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 20 نومبر: جموں و کشمیر پولیس نے جمعرات کو کہا ہے کہ نوگام دھماکے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختلف رپورٹس “گمراہ کن” ہیں۔ پولیس کے مطابق دھماکہ اُس وقت پیش آیا جب فارنزک سائنس لیبارٹری (FSL) کے ماہرین بڑے مقدار میں ضبط کیے گئے بارودی مواد سے نمونے حاصل کرنے کا عمل انجام دے رہے تھے۔
پولیس نے اپنے بیان میں کہا،
“نوگام تھانے میں پیش آئے بدقسمت حادثاتی دھماکے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف رپورٹس اور دعوے سامنے آ رہے ہیں، جو محض اندازوں پر مبنی ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔”
پولیس نے واضح کیا کہ 14 نومبر 2025 کو اُس وقت حادثاتی دھماکہ ہوا جب ضبط شدہ بڑی مقدار میں بارودی مواد سے نمونے حاصل کر کے انہیں فارنزک جانچ کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت نے 16 نومبر 2025 کو اس واقعے کی جامع تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی پرنسپل سیکریٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ کر رہے ہیں۔ کمیٹی میں آئی جی کشمیر زون، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سری نگر اور سینٹرل فارنزک سائنس لیبارٹری (CFSL) حکومت ہند کے ایک سینئر سائنسدان شامل ہیں۔
پولیس نے عوام سے تاکید کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع پر بھروسہ کریں۔









