(سرینگر) وادی میں سردی میں اضافہ کے ساتھ ہی کانگڑیوں اور کوئلوں کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں عام لوگ سردیوں سے بچنے کےلئے درکار کوئلہ اور کانگڑیاں خریدنے کی قوت کھو رہے ہیں۔ وادی میںایک طرف جہاںموسم خشک ہے اور دن میں ہلکی دھوپ کھلتی ہے تاہم اس کے باجود بھی ہڑیوں کو جمادینے والی سردی بھی شدت اختیار کررہی ہے۔ رات میں منفی درجہ حرارت اور دن میں یخ بستہ ہوائیوں کے بیچ سردیوں سے بچنے کےلئے موثر مانے جانے والی کانگڑیوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میںشہر سرینگر کے متعدد علاقوںمیں کانگڑیاں فروخت کرنے والے دکانداروں سے اس بارے میں جب بات کی انہوں نے کہا کہ رواں سیزن کانگڑیوں کی مانگ میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے کیوں کہ وادی میں سردی کافی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم رواں برس کانگڑیوں کی قیمتوں میں قریب 40فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ جوکانگڑی گزشتہ برس 130روپے میں فروخت کی جاتی تھی آج اس کی قیمت قریب 200روپے ہے اور یہ سب سے سستی کانگڑی کی قیمت ہے جبکہ اس کے علاوہ ایک کانگڑی 350روپے سے لیکر 600روپے فروخت ہورہی ہے۔ ان کانگڑیوں میں شوپیاں کی کانگڑیاں، اسلام آباد کی کانگڑی اور بانڈی پورہ کی کانڈیاں بھی شامل ہیں جہاںکی کانگڑی دیگر کانگڑیوں کے بنسبت بہتر ہوتی ہے اور یہ مضبوط اور پائیدار ثابت ہوتی ہے، اسی لئے ان کانگڑیوں کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔ کانگڑی فروشوں نے کہا ہے کہ اگرچہ موجودہ الکٹرانک دور میں گرمی کے دیگر زرائع بھی ہیں جن میں روم ہیٹر، گیس ہیٹر، اے سی اور دیگر چیزیں بھی ہیں تاہم کانگڑی جو کہ یہاں پر صدیوں سے استعمال کی جارہی ہے کو ہی لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں۔ گھروں میں دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ گانگڑی بھی اپنی اہمیت قائم کئے ہوئے ہیں اور اکثر لوگ کانگڑی کے ہی استعال کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی ایک بڑٰ وجہ یہ بھی ہے کہ کانگڑی کو ہم کسی بھی جگہ اپنے ساتھ لے سکتے ہیں اور اس کا استعمال انفرادی طور پر ہوتا ہے جبکہ روم ہیٹراور دیگر ذرائع صرف کمروں تک ہی محدود رہتے ہیں۔ کانگڑیاں دوران سفر بھی ساتھ رکھ سکتے ہیں اور اکثر عمر رسیدہ افراد اور خواتین گاڑیوں میں بھی کانگڑی ساتھ رکھتے ہیں۔ دریں اثناءسردی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ جہاں کانگڑیاں مہنگی ہورہی ہیں وہیں پر کوئلہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔










