(نئی دہلی) جموں و کشمیر کے مالی سال 2022-23 کے لیے 1.42 لاکھ کروڑ روپے کے بجٹ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے پیر کو لوک سبھا میں پیش کیا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے لوک سبھا میں دوپہر کے کھانے کے وقفے کے بعد بجٹ اور مالی برس 2022-23 کے لیے گرانٹس کے مطالبات اور جموں و کشمیر کے لیے مالی برس 2021-22 کے ضمنی مطالبات پیش کیے۔ مرکرزی وزیر خزانہ نے جموں و کشمرکے لیے مالی برس 2022۔23 کے لیے 1.42 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ میں محکمہ تعلیم کو سب سے زیادہ 11,832.77 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے مالی برس 2021-22 کے ضمنی مطالبات بھی پیش کیے جن میں یوٹی کے لیے کل 18,860.32 کروڑ روپے تھے۔ جموں و کشمیر تخصیصی بل 2022 کے مطابق جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے لیے 797.34 کروڑ روپے اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے لیے 10,831.18 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ محکمہ منصوبہ بندی کے لیے 1129.59 کروڑ روپے اور محکمہ اطلاعات کے لیے 232.43 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجلی کے محکمے کے لیے 1002.98 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ محکمہ صنعت اور محکمہ زراعت کے لیے 2835.39 کروڑ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔ محکمہ تعمیرات عامہ کے لیے 6296.57 کروڑ روپے، محکمہ صحت کے لیے 7873.34 کروڑ روپے اور محکمہ سماجی بہبود کے لیے 3202.71 کروڑ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔ محکمہ سیاحت کے لیے وزیر خزانہ نے 507.9 کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے، محکمہ دیہی ترقی کے لیے 5443.17 کروڑ روپے اور باغبانی کے محکمے کے لیے 646.93 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ’ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد یہاں ایس سی ایس ٹی کو اب ان کے حقوق مل رہے ہیں۔’










