امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 28 جولائی: رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے حکومت، میڈیا اور تحقیقاتی ایجنسیوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے ملی ٹینسی کے واقعات کے بعد کشمیری عوام کے خلاف اجتماعی سزا کے مبینہ رجحان کو اجاگر کیا۔
خبر رساں ایجنسی کے این ایس کے مطابق، آغا روح اللہ نے سوال کیا:
"کیا آج کسی نے کہا کہ جنگ پاکستان کے ساتھ بعد میں، مگر کشمیریوں کے ساتھ پہلے لڑی جاتی ہے؟”
انہوں نے کشمیر میں حالیہ انہدامات کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 13 گھروں کو بغیر کسی قانونی طریقہ کار یا شواہد کے محض شبہ کی بنیاد پر مسمار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملی ٹینسی کے واقعات کے بعد بے گناہ شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
"دہشت گرد حملے کے بعد کشمیر میں 13 گھروں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ کسی نے کہہ دیا کہ یہ مشتبہ افراد کے گھر ہو سکتے ہیں؟ کیا اس کے لیے کوئی قانون موجود ہے؟”
آغا روح اللہ نے حالیہ حملے کے متاثرین کے ساتھ اظہار افسوس اور یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر، خاص طور پر کشمیری عوام، نے اس تشدد کی کھلے عام مذمت کی ہے۔
"لوگوں نے دکانیں بند کیں، کاروبار بند کیے، اور احتجاج میں نکلے—کسی کے کہنے پر نہیں، بلکہ درد محسوس کر کے۔”
نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان نے کشمیر میں مبینہ من مانے گرفتاریوں اور اختیارات کے غلط استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
"پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کے بعد دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔ کیا کوئی قانون اپنایا گیا؟ یا صرف کشمیری ہونے کی سزا دی گئی؟”
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام سخت سیکیورٹی پابندیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
"ہر پانچ کلومیٹر پر ہمیں روکا جاتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو مشتبہ قرار دے کر جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، مارا پیٹا جاتا ہے۔”
آغا روح اللہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کشمیری طلباء اور تاجروں کو بھارت کے مختلف حصوں جیسے اترپردیش، اتراکھنڈ، پنجاب اور دہلی میں تشدد، بے دخلی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا بیانیے بھی حملوں کے بعد کشمیریوں کے خلاف منفی تاثر پیدا کرتے ہیں۔







