امت نیوز ڈیسک /حکام نے کہا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے ایک شیطانی منصوبہ ہے اور خبردار کیا کہ یہ حملے ہندوو ¿ں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی غرض سے انجام دیئے جارہے ہیں تاکہ ان کے مزموم عزائم پائیہ تکمیل تک پہنچے تاہم ان منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائےگا۔حکام نے کہا کہ اپنے مزموم عزائم کےلئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اس کے لیے وہ کسی کو بھی مار سکتے ہیں جو ان کی لائن پر نہیں چلتا، انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو بھی ان گروہوں نے مارا ہے۔انہوں نے کہا کہ تخریب کاری کو ہوا دینے والے ممالک“ کے اشارے پر کام کرنے والے شدت پسند گروپ وادی میں معمول کی واپسی سے پریشان ہیں اور اس لیے عوام میں خوف پیدا کرنے اور افراتفری پھیلانے کے لیے سافٹ ٹارگیٹ کلنگ انجام دی جارہی ہے ۔ جے کے انتظامیہ اس سے گھبرانے والی نہیں ہے، انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز ان ٹارگٹ کلنگ کو ختم کر دیں گی جیسا کہ انہوں نے اکتوبر 2021 میں کیا تھا جب ملیٹنٹوں نے ممتاز کیمسٹ پر، سکھ اور دیگر افراد پر ٹارگٹ حملے کیے تھے۔ عہدیداروں نے کہا کہ امرناتھ یاترا کشمیر کی جامع ثقافت کی علامت ہے اور کچھ خطرے کے تاثر کے باوجود جاری رہے گی جس سے نمٹا جائے گا۔ ٹارگیٹ کلنگ میں متعدد اقلیتی طبقہ کے افراد کی ہلاکت کے بعد کشمیری پنڈتوں کی جانب سے کشمیر سے باہر تعیناتی کے مطالبے کے بیچ سرکار نے واضح کیا ہے کہ کشمیر سے کسی بھی کشمیری پنڈت ملازم جو کہ پی ایم پیکیج کے تحت یہاں تعینات کیا جاچکا ہے کشمیر سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں محفوظ مقامات پر کشمیر میں ہی تعینات کی جارہاہے اور ان کی حفاظت کے لئے بھی مزید اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ اس بیچ سرکار نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ امرناتھ یاترا میں کوئی بھی تبدیلی نہیں لائی جارہی ہے ۔ حکام نے کہا ہے کہ امرناتھ یاترا کےلئے حفاظت کے پختہ بندوبست کئے جاچکے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے ایک سلسلے کے بعد کشمیری پنڈت ملازمین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے بڑھتے ہوئے مطالبے کے بیچ جموں و کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کو واضح کیا کہ ملازمین کو وادی سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں محفوظ مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔حکام نے کہا ہے کہ کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگ اور تشدد آمیز واقعات میں حالیہ اضافہ 30 جون تا 11 اگست کے درمیان سالانہ امرناتھ یاترا کے انعقاد کے منصوبوں میں کوئی تبدیلی نہیں لائے گا۔کشمیر وادی میں گزشتہ ایک ہفتے میں کئی شہری ہلاکتوں خاص کر کشمیری پنڈت اور غیر ریاستی ملازمین کو نشانہ بنائے جانے کے بعد کشمیری پنڈتوں کی جانب سے جاری احتجاجی مظاہرو ں کے دوران کشمیری مہاجر پنڈتوں کو وادی سے باہر تعینات کرنے کے مطالبہ کے بیچ سرکار نے واضح کیا کہ جموںکشمیر انتظامیہ اس طرح کے کسی بھی منصوبے پر عمل نہیں کررہی ہے بلکہ کشمیری مائیگرنٹ پنڈت ملازمین جو کہ اس وقت وادی کشمیر میں تعینات ہیں کو محفوظ مقامات پر تعینات کیا جائے گا تاکہ انہیں مکمل تحفظ فراہم ہو۔ حکام نے بتایا کہ سرکا ر ان سرکاری ملازمین کو صد فیصد تحفظ فراہم کرنے کے اپنے وعدے پر قائم ہیں جو یہاں پر وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات کئے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ وادی کشمیر میں قریب 8000ہزار کشمیری مائیگرنٹ پنڈت مختلف محکموں میں پی ایم پیکیج کے تحت تعینات ہیں اور حالیہ ہلاکتوں نے ان میں خوف و دہشت پھیلایا ہے ۔ گزشتہ ماہ 12مئی کو وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے چاڈورہ علاقے میں ایک کشمیری مہاجر ملازم راہل بٹ کو نامعلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا جس کے بعد کشمیری پنڈت احتجاج پر ہیں اور یہاں سے منتقلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اس قتل نے مختلف مقامات پر تقریباً 6,000 ملازمین کے مظاہرے کو جنم دیا جنہوں نے وادی سے باہر ان کی منتقلی کا مطالبہ کیا۔لیکن حکام نے جمعہ کو دلیل دی کہ جموں و کشمیر انتظامیہ کشمیری پنڈت ملازمین کے وادی سے باہر منتقل کرنے کے مطالبے سے اتفاق نہیں کرتے بلکہ انہیں محفوظ مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ ملی ٹنٹ گروپوں کے ذریعہ نرم اہداف کی ہلاکت انہیں سالانہ امرناتھ یاترا کے انعقاد سے نہیں روکے گی۔انہوں نے کہا کہ دو لاکھ سے زیادہ یاتری پہلے ہی سالانہ یاترا کے لیے اپنا اندراج کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تخریب کاری کو ہوا دینے والے ممالک“ کے اشارے پر کام کرنے والے شدت پسند گروپ وادی میں معمول کی واپسی سے پریشان ہیں اور اس لیے عوام میں خوف پیدا کرنے اور افراتفری پھیلانے کے لیے سافٹ ٹارگیٹ کلنگ انجام دی جارہی ہے ۔ جے کے انتظامیہ اس سے گھبرانے والی نہیں ہے، انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز ان ٹارگٹ کلنگ کو ختم کر دیں گی جیسا کہ انہوں نے اکتوبر 2021 میں کیا تھا جب ملیٹنٹوں نے ممتاز کیمسٹ پر، سکھ اور دیگر افراد پر ٹارگٹ حملے کیے تھے۔ عہدیداروں نے کہا کہ امرناتھ یاترا کشمیر کی جامع ثقافت کی علامت ہے اور کچھ خطرے کے تاثر کے باوجود جاری رہے گی جس سے نمٹا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ ظاہر کرتی ہے کہ شدت پسند گروپوں کی محفوظ اہداف پر حملہ کرنے کی صلاحیت سکڑ گئی ہے اور اس لیے نرم اہداف تک رسائی حاصل کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے ایک شیطانی منصوبہ ہے اور خبردار کیا کہ یہ حملے ہندوو ں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ وادی میں ایک "نظام” قائم کرنے کے لیے تھے۔اس کے لیے وہ کسی کو بھی مار سکتے ہیں جو ان کی لائن پر نہیں چلتا، انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو بھی ان گروہوں نے مارا ہے۔عہدیداروں نے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انتخابات کے انعقاد کے امکانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک فیصلہ ہے جو صرف الیکشن کمیشن ہی لے گا۔









