امت نیوز ڈیسک // گذشتہ چند روز سے جموں و کشمیر کے میدانی اور بالائی علاقوں میں مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانہ درجے کی بارش ہورہی کی بارش ہورہی جبکہ بالائی علاقوں میں چند ایک مقامات پر ہلکی برفباری بھی درج کی گئی ہے، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے اور وہیں آج دریا جہلم میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔
مسلسل بارش کے پیش نظر جموں و کشمیر کے 6 اضلاع میں اسکول احتیاطی طور بند کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سرینگر – جموں قومی شاہراہ سمیت مغل روڈ بھی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ وہیں دریا جہلم، اس کی شاخوں اور دیگر نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ صبح 9 بجے دریا جہلم کی سطح سنگم کے پاس 17.17 فیٹ تھی، پامپور کے پاس 2.34 میٹر، رام منشی باغ کے پاس 11.26فٹ تھی۔
دریا کی بڑھتی سطح کے پیش نظر انتظامیہ نے عوام سے صورت حال پر نظر رکھنے اور نہ گھبرائے کی گذارش کی ہے۔ جون کے مہینے میں شمالی کشمیر کے گریز (بانڈی پورہ)، کپواڑہ، امرناتھ غار کے قریب بالتل (گاندربل) بیس کیمپ میں ہلکی سے درمیانہ درجہ کی تازہ برف باری ہوئی۔
محکمے موسمیات کے ایک اعلیٰ آفسر کا کہنا تھا کہ "شمالی کشمیر کے علاوہ پیر پنجال میں بھی ہلکی سے درمیانہ درجہ کی تازہ برف باری درج کی گئی ہے۔ لگاتار بارش سے دریا میں پانی کی سطح میں کافی اضافہ ہوا ہے تاہم گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔”مسلسل بارش کی وجہ سے وادی میں سیلابی صورتحالاُن کا مزید کہنا تھا کہ”شمال مغربی اضلاع میں بارش رک گئی ہے۔ وسطی کشمیر کے چند مقامات اور جنوبی کشمیر کے کئی مقامات پر ہلکی بارش، دن گزرنے کے ساتھ ساتھ بارش کی شدت میں مزید کمی ہوگی۔ اُمید ہے آج بعد دوپہر سے موسم بہتر ہوگا اور آئندہ کل سے ایک ہفتے تک بارش یا برفباری کا کوئی امکان نہیں ہے۔”
مُسلسل بارش کی وجہ سے کولگام کے کئی علاقے زیر آب ہوگئے ہیں۔ وہیں ویشو نالے پر پانی کی سطح میں اضافہ کے سبب مقامی لوگوں کو ضلع انتظامیہ کی جانب سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ضلع ترقیاتی کشمنر نے ازخود کئی علاقوں کا دورہ کیا اور افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنے علاقوں میں چوکسی برتیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام بلال محی الدین نے کہا کہ ‘ویشو نالے پر ہم نے کئی گھروں کو محفوط مقامات پر منتقل کیا اور تمام افراد کو متحرک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں تعلیمی اداروں کو بھی بند رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہں اور ضلع میں کنڑول روم بھی قائم کیا گیا۔
وہیں جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سرحدی علاقے اوڑی کے سکھدر گاؤں میں سیلاب سے لوگوں میں دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے۔ بارش کے سبب اوڑی کے علاقوں کی رابطہ سڑکیں ہیڈ کوارٹر سے کٹ کر رہ چکی ہیں۔ جگہ جگہ سڑک کے کنارے سے مٹی کے تودے گرنے سے سڑکیں پوری طرح سے بند ہیں جن میں پرائمری مجید بھنڈر دنی، چنڈا، بٹگران، سکھدر، شامل ہیں۔
ادھر سکھدر گاؤں کے پاس ایک نالے میں بارش کے سبب مٹی کو تودے کھسک گئے حالانکہ اس کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔ واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے تحت آج شام تک موسم ٹھیک ہونے کا امکان ہے۔
وہیں پلوامہ ضلع کے ترال علاقے میں واقع بنگڈار گترو کی آبادی بیرونی دنیا سے کٹ کے رہ گئی ہے۔ مقامی لوگ برسوں سے وہاں موجود نالے پر ایک پل کی مانگ کر رہے ہیں، تاہم ان کی یہ مانگ پوری نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے اس جدید دور میں وہ بارشوں کے بعد محصور ہو جاتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دنوں بچوں کے امتحانات جاری ہیں تاہم وہ نالے میں پانی کا بہاؤ بڑھنے سے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس نالے پر پل کی عدم دستیابی آبادی کے لیے پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔ تاہم حکام اس ضمن میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ سے بنگہ ڈار گترو کی آبادی نے اپیل کی ہے کہ اس وسیع آبادی کے لیے ایک پل کی تعمیر کا معاملہ جلد از جلد حل کریں۔
وہیں بارہمولہ کے سوپور کے تارزہ علاقے میں نالہ کھوہی اور نالہ نگلی میں پانی کے تیز بہاؤ سے مختلف گھروں میں پانی جمع ہوگیا ہے۔ دوسری طرف رفیع آباد کے وتر گام میں بھی مختلف نالوں میں پانی کے تیز بہاؤ سے جگہ جگہ پر سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اس دوران چیف ایجوکیشن افسر بارہمولہ نے مختلف پرائمری، اور مڈل اسکولوں کو آج بند رکھنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
ضلع پلوامہ کے مختلف علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ مختلف علاقوں کا ضلع ہیڈ کوارٹر سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ سیلابی صورتحال کی وجہ سے دھان کی فصل کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور میوہ باغات کو بھی نقصان پہنچا ہے جب کہ مختلف علاقوں میں مکانات میں پانی داخل ہونے کا خطرہ ہے۔ ضلع کے کوئیل، وورباغ، کاکاپورہ، لیتر، اچھن وغیرہ علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے اور ان علاقوں میں مکانات کو بھی نقصان ہونے کا خطرہ ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق ابھی تک انتظامیہ کی جانب سے اس سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔لوگوں کے مطابق ان کی فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے اور کئی کئی علاقوں میں زرعی اراضی کے ساتھ ساتھ سڑکیں بھی زیر آب آگئی ہیں جس کی وجہ سے ضلع ہڑکواٹر سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔وہیں دوسرے جانب ضلع انتظامیہ نے پہلی سے دسویں جماعت تک کے تمام اسکولوں کو بند کردیا ہے اور ضلع پلوامہ پولیس نے بھی سیلابی صورتحال میں امداد کے لئے ہیلپ لائن نمبر جاری کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ضلع میں خراب موسم، مسلسل بارش کے پیش نظر پولیس پلوامہ کی جانب سے عام لوگوں کی سہولت اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے ایمرجنسی ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے.









