ہمارے بچوں کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں ہو رہی ہے؟ لداخ کے بچوں کیلئے نوکریاں محفوظ اور جموں وکشمیر کے بچوں کیلئے نہیں
(سرینگر) 5اگست2019کو دفعہ370اور 35اے کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر کو گذشتہ 28ماہ میں تباہی، بربادی، لاچاری، غربت، ناراضگی، بے کاری، بے روزگاری، بے کسی اور بے بسی کے سوا کیا ملا؟ ہمارے ساتھ اتنی ناانصافی ہورہی ہے کہ ایک وقت تھا جب یہاں انصاف مانگنے کیلئے احتجاج ہوا کرتا تھا لیکن آج ہم بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کیلئے انصاف نہیں بلکہ لاشیں مانگنے کیلئے احتجاج کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ان باتوں کا اظہارِ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے خطہ چناب کے اپنے دورے کے دوران ڈوڈہ بس سٹینڈ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر جموں ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، سینئر لیڈران خالد نجیب سہروردی، سجاد کچلو، تنویر صادق، اعجاز جان، ڈاکٹر چمن لعل، برج موہن شرما، ظفر اللہ راتھر اور نوید ہاشمی کے علاوہ دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ عمر عبداللہ نے اپنا خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت لوگوں کی کہیں شنوائی نہیں ہورہی ہے۔ یو ٹی انتظامیہ میں سب بے تاج بادشاہ بیٹے ہوئے ہیں، سرکاری سطح پر کہیں جوابدہی نہیں، کوئی حساب کتاب نہیں، جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے مترادف نظام چل رہاہے۔ اداروں میں آپسی تکرار جاری ہے۔ گذشتہ دنوں راجوری میں پولیس اور سول انتظامیہ میں ٹھن گئی تھی۔ ضلع ترقیاتی کمشنر، ایڈیشنل ڈی اور دیگر اعلیٰ افسران پولیس تھانے گئے لیکن وہاں اُن کیلئے دروازہ نہیں کھولا گیا اور اس کیلئے یہ جواز دیا گیا کہ ہمیں آپ کے آنے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جس نظام میں ڈی سی اور ایڈیشنل ڈی سی کیلئے تھانے کا دروازے نہیں کھلے گا اُس نظام میں عام آدمی کی حالت زار کا اندازہ خود ہی لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ سچ بولنے کیلئے کیس دائر کئے جاتے ہیں۔ گاندربل میں چند ماہ قبل ایک عام شہری نے مقامی افسر سے کہا تھا کہ باہر کے افسر اُس کے بات نہیں سمجھ پاتے ہیں اور اسی پر باہر کی ایک افسر ناراض ہوگئیں اور مذکورہ عام شہری پر پی ایس اے عائد کرکے اُسے جیل بھجوا دیا۔ کیا مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کے عوام کو یہی دن دکھانے کیلئے دفعہ370اور 35اے کا خاتمہ کیا؟ عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ جموں وکشمیر کے عوام کو 5اگست2019کے بعد کیا ملا اور کہاں بہتری ہوئی؟اس بات کے ڈھنڈورے پیٹے گئے تھے کہ دفعہ370ہٹے گا تو یہاں بے روزگاری ختم ہوجائے گی، ریکارڈ توڑ تعمیر وترقی ہوگی، باہر کے سرمایہ کا ریہاں آکر سرمایہ کاری کریں گے، علیحدگی پسند سوچ ختم ہوجائے گی، کوئی بندوق نہیں اُٹھائے گااور ملی ٹنسی ختم ہوجائے گی لیکن آج یہ ساری باتیں سراب ثابت ہوگئی ہیں۔ مرکزی حکومت دکھائے کہ ان میں سے کون سے بات سچ ثابت ہوئی؟کیا باہر کے سرمایہ کار آئے؟ کیا کہیں کوئی فیکٹری لگی؟امبانی، ٹاٹا اور برلا آئے؟کسی کو روزگار کا آرڈر ملا؟کیا امن قائم ہوا؟کیا ملی ٹنسی ختم ہوئی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے دورِ حکومت میں جن علاقوں میں ملی ٹنسی نہیں تھی آج وہاں پھر سے ملی ٹنسی کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ ہمارے دورِ حکومت میں پوری وادی خصوصاً سرینگر کے بنکر ہٹوائے اور افسپا ہٹانے پر بحث ہورہی تھی لیکن آج سرینگر کا کوئی کونا نہیں جہاں بنکر کھڑا نہیں، باقی اضلاع کی تو بات ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملی ٹینٹ باہر کے نہیں بلکہ مقامی نوجوان ہیں جو ناراض ہوکر بندوق اُٹھانے کیلئے مجبور ہورہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ علیحدگی پسند سوچ ختم ہوجائیگی لیکن گذشتہ دنوں علیحدگی پسندوں کی ہڑتال کا اثر ہر طرف دیکھنے کو ملا، کہیں ایک دکان تک نہیں کھلی تھی۔ مرکزی حکومت کس بات پر جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہے؟تعمیر و ترقی کے دعوے کرنے والے اس بات کا خلاصہ کریں کہ 370کے بعد کون سے نیا تعمیر و ترقی کا دروازہ کھلا؟گذشتہ اڑھائی سال میں کون سا نیا پروجیکٹ شروع کیا گیا؟ کہاں نیا ہسپتال بنا، کتنے نئے سکول قائم ہوئے، کون سے نیا کالج بنا؟کتنی نئی یونیورسٹی قائم ہوئیں، کتنے نئے پُل اور فلائی اوور بنائے گئے اور کون سی سڑک تعمیر ہوئی؟
این سی نائب صدر نے کہا کہ مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ ناانصافی کیوں روا رکھی ہے؟ لداخ کے لوگ یوٹی چاہتے تھے لیکن جموں وکشمیر کے عوام اپنے آئین اور حقوق جوں کے توں چاہتے تھے لیکن مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کے عوام کو نیچا دکھانے کیلئے اسے یوٹی بنا دیا ہے اور اپنا آئین اور حقوق چھین لئے اور ستمی ظریفی یہ ہے ہمیں جو مراعات ہمیں حاصل تھے وہ لداخ کو دے دیئے، جو یوٹی چاہتے تھے۔ آج لداخ میں نوکریاں محفوظ، زمینیں محفوظ، سکالر شپ محفوظ ، لداخ میں وہی سٹیٹ سبجیکٹ قانون جو مہاراجہ کا تھا لیکن جموں وکشمیر میں دوغلی پالیسی، یہاں کی نوکریاں، زمینیں، سکالر شپ اور ووٹ باہر کے لوگوں کیلئے آسانی سے دستیاب۔ انہوں نے سوال کیا کہ مرکزی حکومت ہمارے بچوں کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں کررہی ہے؟ لداخ کے بچوں کیلئے نوکریاں محفوظ اور جموں وکشمیر کے بچوں کیلئے نہیں؟ ہمارے بچوں کا کیا قصور ہے؟ایک ہی ریاست کے اندر کے بچوں میں اتنا فرق کیوں؟اور جب ہمارے بچے سوال پوچھتے ہیں تو انہیں اینٹی نیشنل اور دیش دروھی قرار دیا جاتا ہے۔عمر عبداللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ووٹ کا بٹوارہ کرنے والوں سے ہوشیار رہےں اور ایسے عناصر کو مسترد کریں جو چناب، پیر پنچال اور کشمیر کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کیلئے میدان میں اُتارے گئے ہیں۔










