(سرینگر) جموں وکشمیر کے دیہی علاقوں میں دیہی آبادی کی جائیداد وزمین کاخاکہ تیار کیا جارہا ہے اور اس جائیداد کےلئے رہائشیوں کو پراپرٹی کارڈ دیا جائے گا اور رہائشی اراضی کا ڈرون سروئے کیا جائے گا۔ اس کےلئے جلد ہی سرکار کی جانب سے نوٹفکیشن جاری کی جارہی ہے۔ آبادی کے سروے اور پراپرٹی کارڈ کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے کمشنر سکریٹری ریونیو ڈپارٹمنٹ وجے کمار بدوری کی جانب سے کسٹوڈین جنرل راجیش شرما کی صدارت میں چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی 15 دنوں میں نوٹیفکیشن کا مکمل خاکہ تیار کر کے حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔ اس اسکیم کو ریاست میں 31 دسمبر تک نافذ کیا جاسکتا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین راجیش شرما کے مطابق جموں و کشمیر کے دیہاتوں میں رہائشی زمین پر رہنے والے لوگوں کا سروے مرکزی حکومت کی ملکیتی اسکیم کے تحت کیا جانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت دیہات میں رہائشی اراضی کا ڈرون کے ذریعے سروے کیا جائے گا۔ یہ دیہی علاقوں میں زمین کی حد بندی کرے گا اور دیہی علاقوں میں مکان مالکان کی ملکیت کا ریکارڈ بنائے گا۔ زمین کے مالکان بینکوں سے قرض لینے کے علاوہ پراپرٹی کارڈ کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ سوامیتوا اسکیم کے تحت دیہات کی رہائشی زمین کی پیمائش ڈرون کے ذریعے کی جائے گی۔
ڈرون گاﺅں کی حدود میں آنے والی ہر جائیداد کا ڈیجیٹل نقشہ تیار کرے گا۔ اس کے ساتھ ہر ریونیو بلاک کی حد بھی طے کی جائے گی۔ یعنی کون سا گھر کتنے رقبے میں ہے، اس کی درست پیمائش ڈرون ٹیکنالوجی سے کی جا سکتی ہے۔ ریاستی حکومت گاؤں کے ہر گھر کے پراپرٹی کارڈ بنائے گی۔ دیہات میں رہائشی زمین کے مالکان کو ان کے مالکانہ حقوق آسانی سے مل جائیں گے۔ جائیداد طے ہونے کے بعد اس کی قیمت بھی آسانی سے طے ہو جائے گی۔ پنچایتی سطح پر ٹیکس نظام میں بہتری آئے گی۔ پراپرٹی کارڈ قرض لینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔










