(نئی دہلی) وزیر خزانہ نرملا صیتا رمن نے مرکزی بجٹ 2022 پیش کیا ہے۔ اس بجٹ میں متوسط طبقے کو مایوسی ہاتھ لگی ہے، کیونکہ انکم ٹیکس سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ یہ موجودہ وزیر خزانہ نرملا صیتا رمن کا پیش کردہ چوتھا بجٹ تھا۔ بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے بہت سے اعلانات کیے گئے۔ بجٹ 2022 میں ملک کو الیکٹرانکس کے شعبے میں خود کفیل بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے موبائل فون چارجرز، موبائل فون کیمرہ لینز، ٹرانسفارمرز وغیرہ پر ڈیوٹی میں رعایت کا اعلان کیا ہے۔ بجٹ میں کم قیمت والے مصنوعی زیورات کی درآمد کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے اب اس پر درآمدی ڈیوٹی کم کر کے 400 روپے فی کلو کر دی ہے۔ دوسرے ممالک سے درآمد کی جانے والی مشینں سستی ہوں گی۔ کپڑا اور چمڑے کے مصنوعات سستے ہوں گے۔ کاشتکاری کا سامان سستا ہو گا۔ جوتے چپل سستے ہوں گے۔ ہیرے کے زیورات سستے ہوں گے۔ البتہ بارش میں بھیگنے سے بچانے والی چھتری اب سے مہنگی ہو جائیں گی۔ حکومت نے بجٹ میں ان پر ٹیکس بڑھا کر 20 فیصد کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چھتریاں بنانے میں استعمال ہونے والے پرزوں پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی گئی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو ریلیف دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بجٹ میں اسٹیل اسکریپ پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ میں ایک سال کے لیے توسیع کر دی ہے۔ اس سے MSME سیکٹر میں سکریپ سے اسٹیل کی مصنوعات بنانے والوں کے لیے آسانی ہوگی۔










