(نئی دہلی) ناگالینڈ، آسام اور منی پور کے کچھ علاقوں میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات میں کمی کے بعد مرکزی سرکار جموں وکشمیر کے کچھ علاقوں میں بھی افسپا ہٹانے پر غور کر رہی ہے اور امکانات لگا ئے جا رہے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے جموں و کشمیر کے دوران اس بات کا اعلان ہو سکتا ہے ۔ معروف انگریزی جریدے ”انڈیا ٹو ڈے“ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم مودی کی قیادت والی حکومت جموں و کشمیر کے کچھ اضلاع سے آرمڈ فورسز (خصوصی اختیارات) ایکٹ 1958 (افسپا) کو ہٹانے پر غور کر رہی ہے۔رپورٹ میں جریدے نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس ماہ کے آخر میں طے شدہ اپنے دورہ جموں و کشمیر کے دوران اس بارے میں کوئی اعلان کر سکتے ہیں۔رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے کچھ علاقوں میں صورتحال کافی بہتر ہو گئی ہے اورا س کے چلتے یہ فیصلہ لیا جا سکتا ہے تاہم ابھی تک اس بارے میں کسی سرکاری ذرائع سے کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے ۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر کے علاقوں کو ستمبر 1990 میں اس وقت کی ریاستی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے افسپا کے تحت لایا گیا تھا، جس میں وادی کشمیر کو قانون کی دفعہ 3 کے تحت کشیدہ حالات قرار دیا گیا تھا۔ اگست 2001 میں ہی اس وقت کی ریاستی حکومت نے افسپا کا دائرہ جموں صوبے تک بڑھا دیا۔وہیں امسال 31 مارچ کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ناگالینڈ، آسام اور منی پور میں ان علاقوں کی تعداد میں کمی کا اعلان کیا جہاں افسپا نافذ تھا۔دریں اثنا، ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں ایک سینئر سرکاری اہلکار کے حوالے سے شائع ایک پورٹ کے مطابق جموں کے کچھ حصوں سے افسپا کی واپسی ایک انتہائی حساس فیصلہ ہے اور حکومت کی اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر ہی زمینی صورتحال کے مکمل جائزے کی بنیاد پر لیا جا سکتا ہے۔










