(سرینگر) عسکریت پسندوں سے ایک مرتبہ پھر ہتھیار چھوڑ کر قومی دھار میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے فوج کے 15ویں کور کمانڈر لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں امسال وادی کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی جانب سے عسکری صفوں میں شمولیت میں کمی آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اس وقت 150سے 165کے قریب جنگجو سرگرم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب کشمیری عوام خاص طور پر نوجوان اور خواتین تشدد کے خلاف کھڑا ہونگے تو کشمیر میں پوری طرح سے امن لوٹ آئیں گا ۔ سرینگر کے بالہامہ علا قے میں ایک سکل سنیٹر کا دورہ کرنے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے سرینگر میں مقیم فوج کے 15ویں کور کمانڈر لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی طرف سے عسکریت پسندوں کے صفوں میں شمولیت میں کافی کمی آئی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 15کور کا عہدہ سنبھالنے کے بعد مجھ سے ہمیشہ میڈیا یہی سوال کرتی تھی کہ فوج صرف بول رہی ہے کہ کشمیر میں تین سو کے قریب جنگجو سرگرم ہے ۔یہ تعداد کب کم ہوگی تاہم انہوں نے کہا کہ آج میں کہہ رہا ہوں کہ کشمیر میں کل ملا کر 150سے 165تک سرگرم جنگجو ہے جن میں سے نصف تعداد غیر ملکی اور نصف مقامی ہے ۔ ڈی پی پانڈے نے کہا کہ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ اب وادی کشمیر میں عسکری صفوں میں مقامی نوجوانوں کی شمولیت میں کمی آ رہی ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ جب کسی ہائی بریڈ ملی ٹنٹ کی ہلاکت ہوتی ہے تو کشمیری عوام اس کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کشمیری عوام خاص طور پر نوجوان اور خواتین تشدد کے خلاف کھڑا ہونگے تو کشمیر میں پوری طرح سے امن لوٹ آئیں گا ۔ شہری ہلاکتوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی ایجنسیاں شہری ہلاکتوں کو روکنے کی کوشش میں ہے تاہم ہائی بریڈ ملی ٹنٹ بات کرتے کرتے گولی مار دیتا ہے اسکو روکنا مشکل ہے تاہم آگر سماج اور لوگ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو اس کو روکنا آسان ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ شہری ہلاکتوں میں ملوث تقریباً90فیصدی ملی ٹنٹ کو ہلاک کیا گیا ہے ۔ عسکریت پسندوں سے ایک مرتبہ پھر ہتھیار چھوڑ کر قومی دھار میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے فوج کے 15ویں کور کمانڈر لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا کہ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ واپسی کا راستہ اختیار کرکے ایک اچھے انسان بن کر زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں ۔










