• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
پیر, جنوری ۲۶, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
’تبدیلی کے مراحل‘ کے دوران پاک-بھارت تعلقات میں بہتری کی امید نہیں’

’تبدیلی کے مراحل‘ کے دوران پاک-بھارت تعلقات میں بہتری کی امید نہیں’

by امت ڈیسک
25/09/2022
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

مسقط: پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت کشیدگی میں اضافے کا امکان بہت کم ہے لیکن مستقبل قریب میں پاکستانی فوج کی قیادت میں تبدیلی اور دونوں پڑوسی ممالک میں ہونے والے عام انتخابات کے باعث کم از کم ایک سال سے دو برسوں کے دوران دوطرفہ تعلقات معمول پر آنے کے سلسلے میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔

یہ عالمی تھنک ٹینک انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام مسقط میں منعقدہ ایک تقریب میں موجودہ اور سابق سینئر پاکستانی اور بھارتی سفارت کاروں اور دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سیکیورٹی حکام اور سیاست دانوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا بنیادی نکتہ تھا۔

گزشتہ ہفتے کے آخر میں منعقدہ تقریب جو کہ ایک طرح کی ٹریک 1.5 کی طرح کی سرگرمی تھی ، اس تقریب میں ہونے والی گفتگو اور تبادلہ خیال کے دوران ایسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا جو پاک بھارت تعلقات میں اتار چڑھاؤ کا باعث بنتے ہیں، کشمیر، دہشت گردی اور تجارت جیسے معمول کے موضوعات کے علاوہ دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد نے چین اور افغانستان سے متعلق پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا جب کہ یہ ممکنہ طور پر علاقائی سیاست کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

تقریب میں شریک عہدیدار نے کہا کہ میٹنگ کا مقصد 2 جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی کے ممکنہ خطرات اور تعلقات معمول کی سطح پر آنے کے امکانات کے بارے میں بات کرنا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک جن کے تقریباً 2 دہائیوں کے دورا ن بہت کم تعلقات رہے ہیں جب کہ ان تعلقات میں مزید سرد مہری اس وقت سامنے آئی جب کہ اگست 2019 میں بھارت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کا الحاق کیا۔

ڈائیلاگ میں شریک ایک عہدیدار بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کا امکان نہیں ہے جب کہ بھارت اس بات پر مطمئن ہے کہ کوئی بحران نہیں ہے اور ایل او سی پر جنگ بندی ہو ہے۔

بہت سے لوگوں کو تعلقات میں بہتری کی اس وقت امید ہوئی تھی کہ جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپریل میں نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف کو مبارکباد دی، اس امید کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی تھی کہ شریف خاندان اور ان کی اہم اتحادی پی پی پی جس کے چیئرمین وزیر خارجہ ہیں وہ روایتی طور پر بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے زیادہ موزوں رہے ہیں۔

اس کے برعکس عمران خان نے بھارت کے معاملے پر سخت مؤقف رکھا، اس کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

مسقط میٹنگ کے دوران کچھ بھارتی شرکاء  نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کے مطابق بھارت میں حکمت عملی ساز سمجھتے ہیں کہ پاکستان تبدیلی کے مراحل میں ہے جب کہ نومبر کے آخر نیا آرمی چیف کمان سنبھالے گا اور 2023 میں انتخابات کا امکان ہے، مزید یہ کہ بھارت میں 2024 میں انتخابات ہونے والے ہیں۔

اس لیے ان کا خیال ہے کہ قیام امن کے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے بھارت کے بارے میں نرم رویے کے عوامی تاثر کے برعکس بھارتی شرکاء نے کہا کہ وہ موجودہ اور سابق وزیر اعظم کے تحت پاکستان کی بھارت پالیسی میں بہت کم فرق دیکھتے ہیں۔

2023 کے انتخابات کے ممکنہ نتائج کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اگر عمران خان دوبارہ وزیراعظم بن جاتے ہیں تو وہ بھارت کے ساتھ بامعنی بات چیت کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔

لہٰذا اس مدت کے دوران بھارتی توجہ تعلقات کو معمول پر لانے کے بجائے موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے پر مرکوز رہے گی۔

ان کے خیال میں اس کے ساتھ ساتھ اسی دوران تجارت کی بحالی ماحول کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تقریب میں شریک پاکستانی عہدیدار نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بھارت تعلقات کی معمول کے مطابق بحالی پر سنجیدہ  نہیں ہے اور وہ دہشت گردی کے الزامات کو مذاکرات اور بات چیت سے فرار کے لیے استعمال کرتا ہے۔(ڈان)

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

ایران میں لڑکی کی زیرحراست موت کے بعد ہنگامے، 50 افراد ہلاک

Next Post

کپواڑہ میں دو عسکریت پسند جاں بحق

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

یومِ جمہوریہ محض پریڈز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، آئین کا تحفظ ضروری: محبوبہ مفتی

یومِ جمہوریہ محض پریڈز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، آئین کا تحفظ ضروری: محبوبہ مفتی

26/01/2026
جموں و کشمیر میں یوم جمہوریہ تقریب کا انعقاد، ایل اجی منوج سنہا کا یوٹی کی سلامتی اور ترقی پر زور

جموں و کشمیر میں یوم جمہوریہ تقریب کا انعقاد، ایل اجی منوج سنہا کا یوٹی کی سلامتی اور ترقی پر زور

26/01/2026
پاکستان کی کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام: نائب وزیر اعلیٰ

پاکستان کی کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام: نائب وزیر اعلیٰ

26/01/2026
کشتواڑ کے سنگھ پورہ علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان تصادم

کشتواڑ کے جنگلات میں تازہ تصادم، فائرنگ کا تبادلہ جاری

26/01/2026
نیشنل کانفرنس نے میاں الطاف کو اننت ناگ-راجوری سیٹ کے لیے لوک سبھا امیدوار نامزد کیا

میاں الطاف کی بجبہاڑہ–پہلگام ریلوے لائن کی مخالفت کرنے والے دیہاتیوں کی حمایت

25/01/2026
نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

25/01/2026
Next Post
کپواڑہ میں دو عسکریت پسند جاں بحق

کپواڑہ میں دو عسکریت پسند جاں بحق

بڈگام میں چور اے ٹی مشین اڑا لے گئے

بڈگام میں چور اے ٹی مشین اڑا لے گئے

شی جن پنگ کا اقتدار سے بے دخل ہونا بھارت کے لیے مزید خطرناک ہوگا: سبرامنیم سوامی

شی جن پنگ کا اقتدار سے بے دخل ہونا بھارت کے لیے مزید خطرناک ہوگا: سبرامنیم سوامی

غلام نبی آزاد کی سیاسی جماعت کا 2 دن میں قیام

غلام نبی آزاد کی سیاسی جماعت کا 2 دن میں قیام

بانڈی پورہ میں عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کے الزام میں مکان منسلک

بانڈی پورہ میں عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کے الزام میں مکان منسلک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »