آج کشمیر میں سماجی برائیوں کی کوئی کمی نہیں ہیں۔ ان میں ایک خودکشی ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اب ہر گزرتے دن کے ساتھ خودکشیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ کوئی بھی دن ایسا نہیں گزرتا ہے جب خودکشی کی واردات نہ ہوں۔ کچھ سالوں پہلے خودکشی کا ایک واقعہ پورے سماج کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا تھا۔ مگر اب ایک دن میں اس قسم کے دس پندرہ واقعات بھی رونما ہوں، زیادہ ردعمل دیکھنے کو نہیں ملتا ہے۔ صرف باتیں ہوتی ہیں اور دنیا پھر سے اپنی پٹری پر آجاتی ہے۔ اب زمانہ ہی ایسا آگیا ہے کہ انسانی جانوں کی قیمت کم ہوگئی ہے۔
خودکشی جیسا عظیم گناہ اچانک رونما نہیں ہوتا ہے۔ یہ اپنا وقت صرف کرتاہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنا مکروہ چہرہ دکھاتا ہے۔ مگر کچھ وجوہات ویسے کے ویسے رہتے ہیں، چاہیے زمانہ کوئی بھی ہوں۔ آنے والی سطروں میں کچھ وجوہات کا ذکر کیا جارہا ہیں۔
سب سے پہلا ہے نجی معاملات۔ ایک انسان اپنے نجی معاملات میں اس طرح پھنس جاتا ہے کہ باہر نکلنے کا کوئی بھی راستہ دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اس کے علاوہ کھبی کھبار انسان دوسروں کے ساتھ اس مسئلہ کو شیئر بھی نہیں کر پاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان بوجھ کے نیچے دب جاتا ہے اور اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان ہر آن مختلف اقسام کے تجربات سے گزرتا رہتا ہے۔یہ تجربات اس کے باہری اور اندرونی وجود پر نمایاں اثرات ڈالتے ہیں۔ کبھی ان کے اثرات ایک حد کو پار کرکے خطرناک شکل اختیار کرتے ہیں اور انسان موت کو گلے لگاتا ہے۔ مزید براں ہر انسان الگ قسم کا جسم، الگ قسم کی سوچ اور دنیا اور آخرت کے متعلق الگ سوچ رکھتا ہے۔ یہ سوچ، نظریات اور زندگی جینے کا الگ ڈھنگ بھی کھبی جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ جب کسی جگہ پر ایک ہی قسم کی سوچ رکھنے والے لوگ رہتے ہیں، تو ان کے برعکس سوچنے اور زندگی گزارنے والا شخص تنہائی اور ذہنی کوفت کا شکار ہوجاتا ہے۔ وہ صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ دوسرا ہے گھریلو مسائل یا جھگڑے۔ یہ نجی وجہ کے بعد سب سے بڑی وجہ خودکشی کی ہے۔ آے دن کے جھگڑے ایک انسان پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس سے سکون قلب اور من کا سکون ختم ہوجاتا ہے۔ اگر ماں باپ کے بیچ لڑائی ہو، تو اس کا براہ راست اثر اولاد پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے افراد خاندان کے درمیان اگر جھگڑے پائے جاتے ہوں، تو وہ بھی ایک انسان کو غلط قدم اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ تیسرا ہے معاشی پریشانیاں۔ مہنگائی کے زمانے میں مزدور کا گزارا کرنا ناممکن سا ہوگیا ہے۔ کھانے کی ضرورت کسی بھی طریقے سے پوری ہوجاتی ہےمگر دوسرے اخراجات جینا حرام کردیتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم پر جو خرچہ جات آتے ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے عام طور پر قرضے لیے جاتے ہیں اور جب یہ ادا نہ ہوں تو یہ بھی خودکشی کا باعث بنتا ہے۔ کھبی کاروبار کے لئے بھی پیسے ادھار لئے جاتے ہیں۔ مگر مختلف وجوہات کی وجہ سے کاروبار چل نہیں پاتا ہے۔ اس وقت بھی خودکشی کی نوبت آتی ہے۔ مزید براں کہ جس باپ کی تین چار بیٹیاں شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہوں اور ان کی شادی کے امکانات بھی نہ ہوں، یہ صورتحال بھی خودکشی کی وجہ بنتی ہے۔ اس صورتحال میں مستقبل میں بننے والی دلہن ہی موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ چوتھا ہے سیاسی افراتفری۔ اس وجہ سے ممالک ہولناک جنگوں میں ملوث ہوجاتے ہیں یا ملک کے اندرون میں ہی ایک گروہ دوسرے گروہ کا گلا کاٹنے لگتا ہے۔ اگر یہ بھی نہ ہوں، تو پھر ایک ملک اپنے ہی لوگوں کو موت کی گھاٹ اتار دیتا ہیں ۔ اس خون خرابے سے بچوں سے لے کر بزرگوں تک موت کی ایک قطار لگ جاتی ہے، جوان اس کا زیادہ شکار ہوجاتے ہیں، گھروں کے گھر تباہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قیمتی جائداد بھی ضائع ہوجاتی ہے۔ اپنے گھروں سے جڑی ہوئی یادیں پیچھا نہیں چھوڑتی ہے۔ اپنوں کو آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھ کر، روح اور بدن دونوں چھلنی ہوجاتے ہیں۔ اس صورتحال میں بھی موت کو گلے لگانا آخری راستہ دکھائی دیتا ہے۔ پانچواں اور آخری ہے ناکام محبت۔ یہ زیادہ تر نوجوانوں میں پایا جاتا ہے۔ ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی جب رشتے میں ناکام ہوجاتے ہیں، تو وہ موت کو ترجیح دیتے ہوئے۔ زندگی کے کم تجربات ہونے کی وجہ سے دور تک نہیں دیکھ پاتے ہیں اور دوریوں کو برداشت نہیں کرپاتے ہیں اور خودکشی کرتے ہیں۔
اس گناہ کو روکنے کے لئے سب کو آگے آنا ہوگا۔ ذی شعور لوگوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا۔ کاؤنسلنگ، سیاسی استحکام، معاشی استحکام، خاندانی افراتفری سے نجات اور نوجوانوں کی صحیح راہنمائی جیسے اقدامات کارگر ثابت ہوسکتےہیں۔ حکومت وقت کو بھی اس میں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ اللہ پر کامل بھروسہ بھی اس گناہ سے دور رہنے کا طریقہ ہے۔ اس دنیا کی آفتوں کو آزمائشوں کے طور پر لینا، بہت ساری پریشانیوں کا حل ہیں۔ درسگاہوں اور تعلیمی اداروں میں بھی اس کے متعلق آگاہی پیدا کرنی چاہئے۔ اور یہی وقت کی ضرورت ہے۔









