• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان

خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان

سید مصطفٰی احمد/حاجی باغ، بڈگام

by امت ڈیسک
20/01/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

آج کشمیر میں سماجی برائیوں کی کوئی کمی نہیں ہیں۔ ان میں ایک خودکشی ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اب ہر گزرتے دن کے ساتھ خودکشیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ کوئی بھی دن ایسا نہیں گزرتا ہے جب خودکشی کی واردات نہ ہوں۔ کچھ سالوں پہلے خودکشی کا ایک واقعہ پورے سماج کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا تھا۔ مگر اب ایک دن میں اس قسم کے دس پندرہ واقعات بھی رونما ہوں، زیادہ ردعمل دیکھنے کو نہیں ملتا ہے۔ صرف باتیں ہوتی ہیں اور دنیا پھر سے اپنی پٹری پر آجاتی ہے۔ اب زمانہ ہی ایسا آگیا ہے کہ انسانی جانوں کی قیمت کم ہوگئی ہے۔

خودکشی جیسا عظیم گناہ اچانک رونما نہیں ہوتا ہے۔ یہ اپنا وقت صرف کرتاہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنا مکروہ چہرہ دکھاتا ہے۔ مگر کچھ وجوہات ویسے کے ویسے رہتے ہیں، چاہیے زمانہ کوئی بھی ہوں۔ آنے والی سطروں میں کچھ وجوہات کا ذکر کیا جارہا ہیں۔

سب سے پہلا ہے نجی معاملات۔ ایک انسان اپنے نجی معاملات میں اس طرح پھنس جاتا ہے کہ باہر نکلنے کا کوئی بھی راستہ دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اس کے علاوہ کھبی کھبار انسان دوسروں کے ساتھ اس مسئلہ کو شیئر بھی نہیں کر پاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان بوجھ کے نیچے دب جاتا ہے اور اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان ہر آن مختلف اقسام کے تجربات سے گزرتا رہتا ہے۔یہ تجربات اس کے باہری اور اندرونی وجود پر نمایاں اثرات ڈالتے ہیں۔ کبھی ان کے اثرات ایک حد کو پار کرکے خطرناک شکل اختیار کرتے ہیں اور انسان موت کو گلے لگاتا ہے۔ مزید براں ہر انسان الگ قسم کا جسم، الگ قسم کی سوچ اور دنیا اور آخرت کے متعلق الگ سوچ رکھتا ہے۔ یہ سوچ، نظریات اور زندگی جینے کا الگ ڈھنگ بھی کھبی جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ جب کسی جگہ پر ایک ہی قسم کی سوچ رکھنے والے لوگ رہتے ہیں، تو ان کے برعکس سوچنے اور زندگی گزارنے والا شخص تنہائی اور ذہنی کوفت کا شکار ہوجاتا ہے۔ وہ صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ دوسرا ہے گھریلو مسائل یا جھگڑے۔ یہ نجی وجہ کے بعد سب سے بڑی وجہ خودکشی کی ہے۔ آے دن کے جھگڑے ایک انسان پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس سے سکون قلب اور من کا سکون ختم ہوجاتا ہے۔ اگر ماں باپ کے بیچ لڑائی ہو، تو اس کا براہ راست اثر اولاد پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے افراد خاندان کے درمیان اگر جھگڑے پائے جاتے ہوں، تو وہ بھی ایک انسان کو غلط قدم اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ تیسرا ہے معاشی پریشانیاں۔ مہنگائی کے زمانے میں مزدور کا گزارا کرنا ناممکن سا ہوگیا ہے۔ کھانے کی ضرورت کسی بھی طریقے سے پوری ہوجاتی ہےمگر دوسرے اخراجات جینا حرام کردیتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم پر جو خرچہ جات آتے ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے عام طور پر قرضے لیے جاتے ہیں اور جب یہ ادا نہ ہوں تو یہ بھی خودکشی کا باعث بنتا ہے۔ کھبی کاروبار کے لئے بھی پیسے ادھار لئے جاتے ہیں۔ مگر مختلف وجوہات کی وجہ سے کاروبار چل نہیں پاتا ہے۔ اس وقت بھی خودکشی کی نوبت آتی ہے۔ مزید براں کہ جس باپ کی تین چار بیٹیاں شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہوں اور ان کی شادی کے امکانات بھی نہ ہوں، یہ صورتحال بھی خودکشی کی وجہ بنتی ہے۔ اس صورتحال میں مستقبل میں بننے والی دلہن ہی موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ چوتھا ہے سیاسی افراتفری۔ اس وجہ سے ممالک ہولناک جنگوں میں ملوث ہوجاتے ہیں یا ملک کے اندرون میں ہی ایک گروہ دوسرے گروہ کا گلا کاٹنے لگتا ہے۔ اگر یہ بھی نہ ہوں، تو پھر ایک ملک اپنے ہی لوگوں کو موت کی گھاٹ اتار دیتا ہیں ۔ اس خون خرابے سے بچوں سے لے کر بزرگوں تک موت کی ایک قطار لگ جاتی ہے، جوان اس کا زیادہ شکار ہوجاتے ہیں، گھروں کے گھر تباہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قیمتی جائداد بھی ضائع ہوجاتی ہے۔ اپنے گھروں سے جڑی ہوئی یادیں پیچھا نہیں چھوڑتی ہے۔ اپنوں کو آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھ کر، روح اور بدن دونوں چھلنی ہوجاتے ہیں۔ اس صورتحال میں بھی موت کو گلے لگانا آخری راستہ دکھائی دیتا ہے۔ پانچواں اور آخری ہے ناکام محبت۔ یہ زیادہ تر نوجوانوں میں پایا جاتا ہے۔ ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی جب رشتے میں ناکام ہوجاتے ہیں، تو وہ موت کو ترجیح دیتے ہوئے۔ زندگی کے کم تجربات ہونے کی وجہ سے دور تک نہیں دیکھ پاتے ہیں اور دوریوں کو برداشت نہیں کرپاتے ہیں اور خودکشی کرتے ہیں۔

اس گناہ کو روکنے کے لئے سب کو آگے آنا ہوگا۔ ذی شعور لوگوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا۔ کاؤنسلنگ، سیاسی استحکام، معاشی استحکام، خاندانی افراتفری سے نجات اور نوجوانوں کی صحیح راہنمائی جیسے اقدامات کارگر ثابت ہوسکتےہیں۔ حکومت وقت کو بھی اس میں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ اللہ پر کامل بھروسہ بھی اس گناہ سے دور رہنے کا طریقہ ہے۔ اس دنیا کی آفتوں کو آزمائشوں کے طور پر لینا، بہت ساری پریشانیوں کا حل ہیں۔ درسگاہوں اور تعلیمی اداروں میں بھی اس کے متعلق آگاہی پیدا کرنی چاہئے۔ اور یہی وقت کی ضرورت ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

قصابوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں؟

Next Post

جموں وکشمیر میں روشنی ایکٹ الاٹمنٹ ،سرکاری اراضی اور کاہچرائی زمین کو خالی کرنے کا نیا حکم اور عوام الناس کی بےچینی

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

بھارت نے زخم دئے، ان سے ہی مرحم لیں گے : الطاف بخاری

جوڈیشل امتحان کے نتائج پر الطاف بخاری کا سوال، علاقائی عدم توازن پر تشویش، ایل جی سے فہرست روکنے کی اپیل

22/01/2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کیا، بھارت میں کھیلنے سے انکار

22/01/2026
بھدرواہ۔چمبا سڑک حادثہ: فوجی گاڑی کھائی میں گرنے سے 10 اہلکار ازجان، 11 زخمی

بھدرواہ۔چمبا سڑک حادثہ: فوجی گاڑی کھائی میں گرنے سے 10 اہلکار ازجان، 11 زخمی

22/01/2026
کشتواڑ کے جنگلات میں ملی ٹنٹوں سے دوبارہ رابطہ، وقفے وقفے سے فائرنگ

کشتواڑ کے جنگلات میں ملی ٹنٹوں سے دوبارہ رابطہ، وقفے وقفے سے فائرنگ

22/01/2026
ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلبہ کا جموں کشمیر کے مختلف گورنمنٹ کالجوں میں ہوگا داخلہ

ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلبہ کا جموں کشمیر کے مختلف گورنمنٹ کالجوں میں ہوگا داخلہ

22/01/2026

عمر عبداللہ کا جموں کی علیحدگی کے مطالبے پر طنز، سنیل شرما کو ’میئر‘ کہہ کر نشانہ

22/01/2026
Next Post
جموں وکشمیر میں روشنی ایکٹ الاٹمنٹ ،سرکاری اراضی اور کاہچرائی زمین کو خالی کرنے کا نیا حکم اور عوام الناس کی بےچینی

جموں وکشمیر میں روشنی ایکٹ الاٹمنٹ ،سرکاری اراضی اور کاہچرائی زمین کو خالی کرنے کا نیا حکم اور عوام الناس کی بےچینی

فاروق عبداللہ نے راہل گاندھی کا شنکراچاریہ سے کیا موازنہ

فاروق عبداللہ نے راہل گاندھی کا شنکراچاریہ سے کیا موازنہ

کشمیر اور جموں کے کچھ علاقوں میں ہلکی برفباری، شبانہ درجہ حرارت میں بہتری

کشمیر اور جموں کے کچھ علاقوں میں ہلکی برفباری، شبانہ درجہ حرارت میں بہتری

کھٹوا سے بھارت جوڑو یاترا دوبارہ شروع

کھٹوا سے بھارت جوڑو یاترا دوبارہ شروع

تازہ برفباری اور پتھر گر آنے سے سرینگر جموں شاہراہ ٹریفک کے لئے بند

تازہ برفباری اور پتھر گر آنے سے سرینگر جموں شاہراہ ٹریفک کے لئے بند

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »