امت نیوز ڈیسک // جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے پر جمعہ کو نارا شہر میں ایک انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دوران علاج زندگی کی
جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے پر جمعہ کو قاتلانہ حملہ ہوا جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں دوران علاج ان کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس نے یاماتوسیدائیجی اسٹیشن کے قریب ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے اور اس جگہ سے جہاں آبے کو گولی ماری گئی تھی، ایک بندوق بھی برآمد کی ہے۔ جاپانی مقامی میڈیا کے مطابق سابق جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کو گولی مارنے والے کی شناخت 41 سالہ شخص کے طور پر ہوئی ہے۔ فائرنگ کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
جاپان کے پبلک براڈکاسٹر این ایچ کے کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح 11.30 بجے کے قریب پیش آیا۔ آبے پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کی انتخابی مہم کے دوران نارا شہر میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ این کے ایچ ورلڈ نے اپنی رپورٹ میں فائر ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ آبے کو دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔قابل ذکر ہے کہ جاپان کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم شنزو آبے نے 2020 میں صحت کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ دو مرتبہ جاپان کے وزیر اعظم رہے، 2006-07 اور دوبارہ 2012-20 تک۔ اس کے بعد ان کی جگہ یوشیہائیڈ سوگا اور بعد میں فومیو کشیدا نے لی۔










