(سرینگر) نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں امن کے لیے ہندوستان اور پاکستان کو بات چیت کرنی چاہیے، دھمکیاں دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوتاہے۔ ایک میڈیا انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نہ پاکستان ہم سے کچھ لے سکتا ہے اور نہ ہی ہم لے سکتے ہیں، ایسے میں ہمیں دونوں طرف امن برقرار رکھنے کی سمت میں کام کرنا چاہیے اور آسانی سے تجارت کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب مرکزی حکومت چین سے بات کر سکتی ہے تو پاکستان سے بات کیوں نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نہ پاکستان ہم سے کچھ لے سکتا ہے اور نہ ہی ہم لے سکتے ہیں۔ایسے میں ہمیں دونوں طرف امن برقرار رکھنے کی سمت میں کام کرنا چاہیے اور آسانی سے تجارت کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کے علاقے میں جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے زرعی قوانین کو واپس لینے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈاکٹڑ فاروق نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت بھی جموں و کشمیر کے لوگوں کی بات سنے گی اور ریاست کا درجہ بحال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت دل کی دوری اور دہلی کی دوری کو کم کرنا چاہتی ہے تو اسے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کے ساتھ ساتھ خود مختاری بھی واپس دینی چاہیے۔ کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ پر پوچھے گئے ایک سوال پر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ملٹنسی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا جموں و کشمیر کے لوگوں کے دل جیت کر ہی تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ آئندہ اسمبلی انتخابات کے بارے میں سوال پر عبداللہ نے کہا کہ این سی انتخابات کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر میں حکومت نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی یہاں صرف ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے یا پولیس اور فوج کا استعمال کرکے حکومت بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر میں بے روزگاری بڑھانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ جموں و کشمیر میں ملک میں سب سے زیادہ بے روزگاری ہے۔ حد بندی کمیشن کے کام پر پوچھے گئے سوال پر عبداللہ نے کہا کہ ریاست کے پانچ ایم پی ہیں جن میں تین این سی اور دو بی جے پی سے ہیں۔ ان کے ساتھ آخری ملاقات کے بعد حد بندی کمیشن اپنی رپورٹ دے سکتا ہے۔ این سی صدر نے گزشتہ دنوں وادی کے حیدر پورہ علاقہ میں ہوئے مبینہ تصادم کے بارے میں بولتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی حقیقت جوڈیشل انکوائری کے ذریعے ہی سامنے آسکتے ہیں۔










