سری نگر//جموں و کشمیر حکومت نے جمعہ کو ڈاکٹروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈیوٹی اوقات کے دوران پرائیویٹ پریکٹس کرنے اور دیگر بدعنوانیوں میں شامل ہونے سے گریز کریں کیونکہ یہ سول سروس کنڈکٹ رولز کی خلاف ورزی ہے۔
ایک حکم نامے کے مطابق، تمام ایچ او ڈیز اور ڈی ڈی اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ڈاکٹر کو ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اجازت نہ دیں، جس سے عوامی خدمات میں حلل ہو اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے، محکمہ صحت اور میڈیکل ایجوکیشن کے کچھ ڈاکٹر سرکاری اوقات کے ساتھ ساتھ سرکاری صحت کے اداروں میں ڈیوٹی روسٹر پر ہوتے ہوئے بھی نجی پریکٹس میں ملوث ہیں۔ یہ سول سروسز کنڈکٹ رولز کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً جاری کردہ مختلف رہنما خطوط اور عوامی خدمت کی اخلاقیات کے بھی خلاف ہیں جن کے لیے حکومت نے ڈاکٹروں کی تقرری کی ہے۔
حکم نامہ کے مطابق، “یہ بھی نوٹس میں آیا ہے کہ بعض ڈاکٹر سرکاری صحت کے اداروں میں، جہاں وہ تعینات ہیں، وہاں حاضری دینے کے بجائے اپنے نجی کلینک میں طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔اس کے نتیجے میں آیوشمان بھارت/صحت سکیم کے تحت سرکاری خزانے کو نقصان ہو رہا ہے، جو بدعنوانی کی روک تھام کے ایکٹ 1988کی دفعات کے تحت ایک جرم کے مترادف ہے۔ اسے بھی بدانتظامی اور سول سروسز کنڈکٹ رولز کی خلاف ورزی قرار دیا جائے گا”۔
مزید کہا گیا،” حکومت کے نوٹس میں آیا ہے کہ بہت سے ڈاکٹر دوسرے شہروں اور قصبوں میں پرائیویٹ پریکٹس کر رہے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال کی صورت میں وہ اپنی پوسٹنگ کے مقامات پر دستیاب نہیں ہیں۔جو ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی چھوڑ رہے ہیں اور دوسری جگہوں پر پرائیویٹ پریکٹس میں ملوث ہیں ان کے خلاف بھی سنجیدگی کاروائی کی جائے گی”۔
حکم نامہ کے مطابق، تمام ایچ او ڈیز اور ڈی ڈی او ر پر زور دیا گیا ہے کہ وہ محکمہ صحت اور میڈیکل ایجوکیشن کے کسی بھی ڈاکٹر کو ان بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کی اجازت نہ دیں جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو نقصان پہنچے اور عوامی خدمات میں حلل پیدا ہو.










