واشنگٹن: بھارت نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں یوکرین کے متعلق روس کے خلاف پہلی دفعہ ووٹ دیا۔ دراصل سلامتی کونسل نے بدھ کو یوکرین کی آزادی کی 31 ویں سالگرہ کے موقع پر چھ ماہ سے جاری جنگ کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا تھا۔ جس میں 15 رکنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو اس دوران ویڈیو ٹیلی کانفرنس کے ذریعے اجلاس سے خطاب کرنے کی دعوت دی تھی۔
جیسے ہی اجلاس شروع ہوا اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نے ویڈیو ٹیلی کانفرنس کے ذریعے میٹنگ میں زیلنسکی کی شرکت کے حوالے سے ووٹنگ کی درخواست کی۔ اس کے بعد بھارت سمیت 13 ارکان نے یوکرین کے حق میں ووٹ دیا جبکہ روس نے اس دعوت کے خلاف ووٹ دیا اور چین نے ووٹ نہیں دیا۔
روسی فوج نے فروری میں یوکرین پر حملہ شروع کیا تھا۔ اس کے بعد بھارت نے پہلی دفعہ یوکرین کے معاملے پر روس کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ اب تک نئی دہلی یوکرین کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے سے گریز کرتا رہا ہے جس سے امریکہ سمیت مغرب بھی ناخوش ہیں۔ یوکرین پر حملے کے بعد مغربی ممالک نے روس پر سخت اقتصادی اور دیگر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔نئی دہلی نے متعدد دفعہ روس اور یوکرین سے سفارت کاری اور بات چیت کے راستے پر واپس آنے کی اپیل کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی کوششوں میں تعاون کا اظہار کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بھارت دو سال سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے۔ ان کی مدت دسمبر میں ختم ہو جائے گی۔









